غیر ملکی سفارت خانوں میں لوٹ مار سے ہمارا کوئی تعلق نہیں: سوڈانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سوڈانی فوج نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والی امن وامان کی صورت حال کی وجہ سے مسلح افواج سفارتی مشنوں کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ سفارتی مشنوں پر حملوں کی ذمہ داری فوج پرعائد کرنا بلا جواز ہے۔ ہمارا سفارت خانوں پر حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔

سفارت خانوں پر حملے

فوج نے ایک بیان میں مزید کہا کہ منحرف ریپڈ سپورٹ فورسز پر سفارت خانوں پر حملے کا الزام رپورٹوں اور عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہے۔

خیال رہے کہ سوڈان میں ایک ماہ سے فوج کےدو دھڑوں کےدرمیان جاری خانہ جنگی کےدوران بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ دونوں متحارب دھڑے لوٹ مارکا الزام ایک دوسرے پر عائد کررہےہیں۔

دارالحکومت خرطوم میں منگل کو متحارب قوتوں کے درمیان جھڑپیں دوبارہ شروع ہوئیں اور کئی الگ الگ علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

شدید بمباری

العربیہ/ الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ دار الریاض، ارکویت اور المعمورہ، خرطوم کے مشرق میں اور دارالحکومت کے جنوب میں جبرہ میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

خرطوم کے رہائشیوں نے تصدیق کی کہ کل فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ رات پڑوسی شہروں بحری اور ام درمان کے کچھ حصوں میں شدید گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔

گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے شہر جدہ میں شروع ہونے والے جنگ بندی کے مذاکرات کے باوجود گذشتہ روز دارالحکومت خرطوم کے مشرق میں واقع "مشرقی نیل" کے علاقے میں اور ام درمان شہر میں بھی جھڑپوں اور فضائی بمباری کے واقعات رونما ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں