اماراتی صدرشیخ محمدکا طیب ایردوآن سے ترکیہ انتخابات اوردوطرفہ تعلقات پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زایدآل نہیان نے اپنے ترک ہم منصب سے ٹیلی فون پر دوطرفہ تعلقات اور ترکیہ میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق شیخ محمد نے صدر طیب ایردوآن کو ترکیہ میں انتخابی عمل کی کامیابی پرمبارک باد پیش کی اور اس امید کا اظہارکیاکہ ان انتخابات سے ترکیہ کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک نے مارچ میں ایک تجارتی معاہدے پردست خط کیے تھے، جس کے تحت اگلے پانچ سال میں دوطرفہ تجارت کاحجم 40 ارب ڈالرہونے کی توقع ہے۔شیخ محمدبن زاید کے 2021 میں ترکیہ کے دورے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ سیاسی اورتجارتی تعلقات میں گرم جوشی آئی تھی اورانھوں نے گذشتہ سال دوطرفہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات نے ترکیہ میں سرمایہ کاری کے لیے 10 ارب ڈالر کا سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا تھا۔ صدرایردوآن نے فروری 2022 میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا جو گذشتہ قریباً ایک دہائی میں ان کااس خلیجی ملک کا پہلا دورہ تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت 2022ء میں 18.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو 2021 کے مقابلے میں 40 فی صد زیادہ ہے۔ترکیہ غیر تیل تجارت میں یواے ای کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

صدرایردوآن کی حکمراں جماعت آق اور اس کے قوم پرست اتحادیوں نے گذشتہ اتوار کو منعقدہ انتخابات میں پارلیمان میں بھاری اکثریت حاصل کرکے رائے دہندگان کو حیران کردیا تھا۔

تاہم وہ خودووٹوں کے معمولی فرق سے صدارتی انتخاب میں کامیاب نہیں ہوسکے۔اب 28مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں وہ اپنے قریبی حریف کمال کلیچ داراوغلو کے خلاف میدان میں اتریں گے۔وہ پہلے مرحلے میں واضح طور پر جیتنے کے لیے درکار 50 فی صد کی حد سے صرف اعشاریہ 50 پیچھے رہ گئے تھے۔

حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار اورسی ایچ پی کے سربراہ کلیچ داراوغلو نے 44.9 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔یہ ایردوان کے 20 سالہ اقتدار کے لیے سب سے بڑا انتخابی چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ تیسرے امیدوار سنان اوغان نے صرف 5.17 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں