شام سے غائب ہونے والی تورات کا ایک نسخہ ایک نیلامی میں 38 ملین ڈالر میں فروخت

ایک ہزار سال پرانا مخطوطہ ماکسین قصبے میں عبادت گاہ کی تباہی کے بعد 500 سال سے زیادہ عرصہ غائب رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانوی نیلام گھر سوتھبی کی جانب سے گزشتہ اتوار کو شروع ہونے والے عالمی مقابلے کے بعد نیویارک میں ایک نیلامی کل بدھ کو ختم ہوئی جس میں تورات کا قدیم ترین مکمل نسخہ کمیشن اور لوازمات سمیت 38.1 ملین ڈالرز میں فروخت ہوا۔ ذیل میں ‘‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’’ کی طرف سے پیش کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس نسخہ کی فروخت کا عمل 3 منٹ تک جاری رہا۔ اس دوران شام میں آرامی اور یونانی زبان میں لکھی ہوئی چیزوں کو حاصل کرنے کے خواہشمندوں نے بولیاں لگائیں۔

مخطوطہ کے پارچمنٹ میں وہ تمام 24 کتابیں شامل ہیں جو تورات کو 3 حصوں میں شامل ہیں۔ یعنی موسیٰ کی پہلی پانچ کتابیں اور انبیاء کا حصہ بھی شامل ہے۔ یہ "کتابِ پیدائش" سے شروع ہو کر ختم تاریخ کی کتاب پر ختم ہوتی ہے۔ اس نے اپنا نام ساسون کوڈیکس کے نام سے اخذ کیا ہے۔ یہ ایک یہودی ڈیوڈ سلیمان ساسون ہیں جو 1942 میں اپنی موت سے قبل 62 سال کے تھے۔ انہوں نے پرانی کتابیں، مخطوطات اور نادر نوادرات جمع کیے تھے۔

یہ مخطوطہ 1000 سال سے زیادہ قدیم ہے۔ ماکسین قصبے کی عبادت گاہ کی تباہی کے 500 سال سے زیادہ عرصہ تک یہ نسخہ غائب رہا۔ ماکسین قصبے کا نام تبدیل کرکے ‘‘ مرکدہ’’ رکھ دیا گیا تھا۔ یہ شمال مشرقی شام میں ہاساکا گورنری میں واقع ہے۔ یہ نسخہ غائب ہونے کے بعد اس وقت تک ظاہر نہیں ہوا جب اسے 1929 میں فروخت نہ کر دیا گیا۔ سوتھبیز میں یہودی متن میں ماہر محقق شیرون لیبرمین منٹز کے مطابق یہ نسخہ اس وقت لبنانی شامی نژاد سوئس شہری کی ملکیت میں رہا۔

تل ابیب کے میوزیم آف دی جیوش پیپل سے وابستہ ایک خیراتی فاؤنڈیشن نے اس نسخہ کو نیلامی میں خریدا۔ فاؤنڈیشن کے مطابق نسخہ کے سوئس مالک الفریڈ موسیٰ ہیں جو 1994 سے 1997 تک رومانیہ میں وکیل اور امریکی سفیر رہ چکے ہیں۔ نیلام کرنے والے نے کہا کہ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یہ یہودی لوگوں کا ہے۔ اس کی تاریخی اہمیت کو سمجھنا اور اسے ایک ایسی جگہ پر دیکھنا میرا مشن تھا جو سب کے لیے قابل رسائی ہے۔

خریدار دائیں طرف، بیچنے والا بائیں طرف، اور مخطوطہ درمیان میں ہے
خریدار دائیں طرف، بیچنے والا بائیں طرف، اور مخطوطہ درمیان میں ہے

مخطوطہ کے سابق مالک الفریڈ ساسون کے بعد اس کا سوئس-لبنانی مالک جیکی صفرا تھا جو 1940 میں بیروت میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے اس پر کاربن 14 کا معائنہ کرنے کے بعد اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اس کی تحریر کی تاریخ کی تصدیق کی تھی کہ یہ مشہور حلب اور لینن گراڈ کے نسخوں سے پرانا تھا۔ اس نے مخطوطے کو سوتھبی کے ذریعہ نیلامی کے لیے پیش کیا۔

‘‘العربیہ’’ کے مطابق جیکی صفرا کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کے تین مرحوم چچاا ایڈمنڈ، موائسز اور جیکب تھے جو برازیل میں رہائش پذیر تھے اور ان میں سے دو وہیں انتقال کر گئے اور ان کے سب سے بڑے چچا ایڈمنڈ مونٹی کارلو میں واقع اپنے گھر میں آگ لگنے سے انتقال کر گئے تھے۔ جیکی صفرا کے دادا جیکب صفرا تھے جو 1891 میں شام میں پیدا ہوئے تھے جہاں سے وہ 130 سال قبل اپنے خاندان کے ساتھ جوانی کی عمر میں بیروت چلے گئے تھے۔ گزشتہ صدی میں 20 کی دہائی میں وہاں انہوں نے بینک صفرا قائم کیا تھا۔ 1952 میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ برازیل چلے گئے تھے۔ تاہم انہوں نے اور ان کی اولاد نے اپنی لبنانی شہریت برقرار کھی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں