امریکی سینیٹرز نے روس کیساتھ جوہری ہتھیاروں کا آخری معاہدہ ختم کرنے کا بل پیش کردیا

جب ایک فریق جھوٹ بولتا اور دھوکہ دیتا ہے تو معاہدے موثر نہیں ہوتے: سینیٹر مارکو روبیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متعدد امریکی قانون سازوں نے جمعرات کو بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ روس کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کے آخری معاہدے کو ختم کر دے کیونکہ ماسکو نے فروری میں اس حوالے سے اپنی شرکت کو معطل کر دیا تھا۔

روس کے صدر پوٹین نے کہا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے یوکرین کی حمایت اور اسے مسلح کرنے کے بعد کریملن امریکی معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دے گا۔

امریکہ کے مطابق یہ معاہدہ روس کی طرف سے تعینات تمام بین البراعظمی رینج کے جوہری ہتھیاروں پر ‘‘تصدیق شدہ حدود" لگاتا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اسے 2026 تک بڑھا دیا تھا۔

سینیٹر مارکو روبیو نے ریپبلکن سینیٹرز کے ایک گروپ کی جانب سے " نو START ٹریٹی ایکٹ" متعارف کرانے کے بعد کہا کہ "معاہدے اس وقت موثر نہیں ہوتے جب ایک فریق جھوٹ بولتا ہے اور دھوکہ دیتا ہے۔ ہم نے پچھلی دہائی سے ایسے شواہد دیکھے ہیں کہ روس اب نئے START معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام نہیں کر رہا ہے۔

روبیو نے اسے "غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک" قرار دیا کہ واشنگٹن کے لیے چین کی طرف سے بیرون ملک بڑھتی ہوئی مخاصمت کے پیش نظر یکطرفہ طور پر خود کو محدود کرنا۔

پیر کے روز معاہدے میں اپنی ذمہ داری کے تحت اور اس سے قبل اس معلومات کا اشتراک روکنے کے عزم کے باوجود امریکہ نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے اعداد و شمار کو عوامی طور پر جاری کیا تھا اور روس پر زور دیا کہ وہ بھی ایسا کرے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے اعلیٰ ریپبلکن سینیٹر نے کہا کہ نئی قانون سازی روس کے ساتھ مستقبل کے ہتھیاروں کے کنٹرول کے معاہدوں کو کنڈیشنگ کرتے ہوئے امریکی غلطیوں کو درست کرے گی جس میں چین کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کی تمام اقسام کو شامل کیا جائے گا۔

سینیٹر جم رِش نے کہا کہ "ہمیں ایک ایسے تزویراتی ماحول کے لیے تیار رہنا چاہیے جس میں امریکہ کو دو جوہری ساتھیوں چین اور روس کا سامنا ہے"

دریں اثنا سینیٹر ٹام کاٹن نے معاہدے میں توسیع پر بائیڈن انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکہ کو اپنی جوہری قوتوں کو تقویت دینی چاہیے۔ "نئے سٹارٹ معاہدے نے امریکہ کو ہتھکڑی لگا دی ہے اور دوسری طرف پوٹین نے برسوں سے معاہدے کی خامیوں کا فائدہ اٹھایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں