سلمان رشدی حملے کے بعد پہلی بار نیویارک میں منظرعام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متنازع برطانوی مصنف سلمان رشدی جمعرات کی شام نیویارک میں پہلی بار عوام میں نمودار ہوئے۔ انہیں تقریباً نو ماہ پیشتر امریکا میں چاقو کے حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تقریباً نو ماہ قبل ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ انہیں ایک مشتبہ شخص نے چاقو سے وار کر کے زخمی کر دیا تھا۔ اس حملے میں ان کی ایک آنکھ چلی گئی۔

امریکی شہریت رکھنے والے نیویارک میں مقیم معروف متنازع ادیب کو آزادی اظہار رائے اور متنازع لٹریچر کی وجہ سے عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ انہیں آزادی اظہار رائے اور ادب کے دفاع پر ’’پین امریکا‘‘ ایسوسی ایشن کی جانب سے اعزازی ایوارڈ ملا جس کے وہ ماضی میں صدر رہ چکے ہیں۔

75 سالہ رشدی مین ہٹن کے سینٹرل پارک کے قریب امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں منعقد ہونے والی پارٹی میں شامل ہونے سے قبل اپنی دائیں آنکھ میں حملے میں زخمی ہونے کے بعد سیاہ چشمہ پہنے فوٹوگرافروں کے سامنے سرخ قالین پر کھڑے تھے۔

ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق رشدی نے کہا کہ "امریکا پر پابندی" آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

بھارتی نژاد مصنف اس وقت متاثر ہوئے جب انہوں نے پارٹی میں مدعو 700 لوگوں سے تقریر کی۔

انہوں نے فرانسیسی، ہسپانوی اور انگریزی میں کہا کہ "ہمیں دہشت گردی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں تشدد سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ ہمیں جدوجہد جاری رکھنی ہے۔"

رشدی پچھلے سال12 اگست کو اس وقت شدید زخمی ہو گئے تھے جب وہ نیویارک کے اوپری علاقے چوٹوکوا میں ایک کانفرنس میں شریک تھے۔ اس دوران ایک نوجوان کی طرف سے کیے گئے چاقو کے حملے کے نتیجے میں وہ اس وقت شدید زخمی ہو گئے تھے۔

ان کے سیکرٹری اینڈریو ولی نے اکتوبر میں اعلان کیا کہ رشدی ایک آنکھ کی بینائی کھو چکے ہیں اور اپنے ایک ہاتھ کو استعمال کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

سنہ 1989ء میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خمینی نے ’شیطانی آیات‘ کے عنوان سے متنازع کتاب لکھنے پر رشدی کے قتل کا فتویٰ صادر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں