چین بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں ہونے والےجی ٹونٹی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر میں ہونے والے جی ٹونٹی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’اے پی پی‘‘ نے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن کے حوالے سے بتایا کہ چین، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے جی ٹونٹی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔

انہوں نے انٹرنیشنل پریس سنٹر (آئی پی سی) میں منعقدہ بریفنگ میں کہا کہ چین متنازعہ علاقوں میں جی ٹونٹی اجلاسوں کی کسی بھی شکل کے انعقاد کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور وہ اس طرح کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرے گا۔

انڈیا نے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین پر اجلاس منعقد کرنے کے لیے آزاد ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت کا 22 سے 24 مئی تک مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں سیاحت سے متعلق جی ٹونٹی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے کا منصوبہ ہے۔

مودی حکومت کی طرف سے عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطے جموں وکشمیر میں گروپ 20 اجلاس کے انعقاد کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان تعلقات 2020 میں لداخ میں ایک فوجی جھڑپ کے بعد سے کشیدہ ہیں، جس میں 24 فوجی مارے گئے تھے۔

جموں وکشمیر کا گرمائی دارالحکومت سری نگر 22-24 مئی کو جی 20 ممبران کے سیاحتی ورکنگ گروپ کی میٹنگ کی میزبانی کرے گا۔ پاکستان بھی کشمیر میں جی 20 اجلاس منعقد کرنے کے انڈین فیصلے کی مخالفت کر چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں