جی 7

تجارت اور سپلائی چین کے بطور ’ہتھیار‘ استعمال کا مقابلہ کریں گے: جی 7 اعلامیہ

جی سیون ممالک نے چین کو ’تعمیری اور مستحکم‘ تعلقات کے پیغام کے ساتھ یوکرین کو ایف 16جنگی طیارے دیے جانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے جبکہ روس نے ایسا کرنے سے خبردار کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جاپان کے شہر ہیروشما میں دنیا کی سات امیر ترین جمہوریتوں کے سربراہوں کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں امریکہ، جاپان، جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی اور کینیڈا کے سربراہان نے روس کے یوکرین پر حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال اور چین کے ساتھ کشیدہ حالات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔

جی سیون ممالک نے چین کو پیغام دیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ ’تعمیری اور مستحکم‘ تعلقات کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب ایسے اشارے ہیں کی یوکرین کو ایف سولہ جنگی طیارے مل سکتے ہیں جبکہ روس نے ایسا کرنے سے خبردار کیا ہے۔

صنعتی ممالک کے جی سیون گروپ کے سربراہان مملکت و حکومت نے پیغام دیا ہے کہ وہ چین کے ساتھ ''تعمیری اور مستحکم تعلقات‘‘ کے لیے تیار ہیں۔

جاپان کے شہر ہیروشیما میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ حکومت کے ساتھ تعاون ضروری ہے اور وہ چین کی ترقی اور اقتصادی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتے۔ دنیا کی ان سات دولت مند جمہوریتوں نے ایک مرتبہ پھر چین پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے اپنے سٹریٹجک پارٹنر روس پر دباؤ ڈالے۔

تاہم ان صنعتی ممالک کے اس مسودے میں چین کے لیے انتباہی پیغامات بھی ہیں۔ بیجنگ حکومت پر واضح کیا گیا ہے کہ اقتصادی تعاون میں مساوی حالات پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی کی غیر قانونی منتقلی کا مقابلہ کیا جائے گا۔ جی سیون میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ کے ساتھ ساتھ یورپی یونین بھی شامل ہے۔

زیلنسکی کا خطاب

یوکرین کے صدر ولوودیمیر زیلنسکی بھی ہیروشیما میں سات سرکردہ جمہوری اقتصادی طاقتوں (جی سیون) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ صدراتی دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق زیلنسکی دیگر رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ہیروشیما میں امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقاتیں کی ہیں۔

جی سیون اجلاس میں یوکرینی صدر کی حیرت انگیز شرکت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب امریکہ نے پہلی بار یوکرین کو ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی فراہمی کا عندیہ دیا ہے۔ قبل ازیں زیلنسکی اس اجلاس میں آن لائن شرکت کرنا چاہتے تھے۔

ماسکو کی وارننگ

دریں اثنا روسی نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گروشکو نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک نے یوکرین کو ایف سولہ لڑاکا طیارے فراہم کیے تو یہ ممالک خود بھی ''بڑے خطرات‘‘ سے دوچار ہوں گے۔ یوکرین کو ابھی ایف سولہ طیارے فراہم کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن جو بائیڈن نے جی سیون ممالک کو بتایا ہے کہ ان کا ملک یوکرینی پائلٹوں کو ایف سولہ جنگی طیاروں کی تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

روسی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک اب بھی کشیدگی کے منظر نامے پر قائم ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہے اور اس نے اس تناظر میں بھی تیاری کر رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں