ایران میں انسانی اسمگلنگ کا ایک اور مجرم فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے آج بروز ہفتہ کو ایک شخص کو انسانی اسمگلنگ اور جسم فروشی کے گروہ کی قیادت کرنے کے جرم میں سزائے موت دے دی۔

عدلیہ کی میزان آن لائن نیوز ویب گاہ کے مطابق، "سپریم کورٹ میں شہروز سخنوری عرف ایلکس کی سزا کی تصدیق کے بعد، اسے آج صبح پھانسی دے دی گئی۔"

میزان نے مزید کہا کہ سخنوری پر "بین الاقوامی سطح پر جسم فروشی کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کرنے اور چلانے کے لیے "فساد فی الارض" کا الزام تھا۔ جو ایرانی اور غیر ملکی لڑکیوں کو راغب کرتا تھا"۔ عدلیہ نے کہا کہ مجرم 1983 میں ایران چھوڑ گیا تھا۔

وہ ہندوستان، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، یوکرین اور امریکہ سمیت مختلف ممالک میں مقیم رہا۔ حکام اسے 2020 میں بیرون ملک سے گرفتار کر کے ایران واپس لائے۔

اس ملک کا نام نہیں بتایا گیا جہاں اسے حراست میں لیا گیا تھا۔

سخنواری کی پھانسی سے ایک دن قبل

مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں سے منسلک تین افراد کو بھی پھانسی دی گئی ہے۔

ان تین افراد پر 16 نومبر کو مرکزی شہر اصفہان میں ایک مظاہرے میں سکیورٹی فورسز کے تین ارکان کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے الزام تھا۔

جمعہ کو دی جانے والی پھانسیوں کی مغرب ممالک اور انسانی کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مذمت کی گئی۔

ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس گروپ کے مطابق، ایران نے سال کے آغاز سے اب تک 220 سے زیادہ افراد کو پھانسی دی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق ایران ہر سال چین کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ لوگوں کو سزائے موت دیتا ہے۔

دونوں گروپوں نے کہا کہ ایران میں گذشتہ سال کم از کم 582 افراد کو پھانسی دی گئی، جو 2015 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں