امریکا، برطانیہ اور فرانس کے بحری کمانڈرز کا آبنائے ہرمز کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی، برطانوی اور فرانسیسی بحریہ کے مشرق وسطیٰ میں مقیم کمانڈروں نے جمعہ کے روز ایک امریکی جنگی جہاز پر آبنائے ہرمز کا سفر کیا۔ یہ ایران کی جانب سے دو آئل ٹینکرز کو قبضے میں لینے کے بعد اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے لیے ان کے متفقہ نقطہ نظر کا اظہار تھا۔

پانچ برس قبل امریکہ کے یکطرفہ انخلا کے بعد عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعد سے خلیج میں تناؤ ہے۔

بحری جہاز یو ایس ایس پال ہیملٹن پر سوار ہوکر تینوں بحریہ کے سربراہوں نے ناقابل یقین حد تک نایاب مشترکہ سفر کیا۔ اس موقع پر دیکھا گیا کہ ایک مقام پر ایرانی پاسداران انقلاب کی تین تیز کشتیاں جہاز کے قریب پہنچی تھیں۔

گارڈز اپنے ڈیک پر بے نقاب مشین گنوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ پال ہیملٹن پر سوار ملاح بھی بھاری بھرکم مشین گنوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ بحری جہاز کی تصاویر اور یڈیو بنائی گئیں۔ اس موقع پر اے پی کا ایک صحافی بھی اتحادی بحریہ کے کمانڈروں کے ساتھ تھا۔

ایرانی گارڈ نے پال ہیملٹن اور گزرنے والے برطانوی فریگیٹ ایچ ایم ایس لنکاسٹر دونوں سے اپنا فاصلہ برقرار رکھا۔ ان کی موجودگی نے ظاہر کیا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کا گزرنا کتنا کشیدہ ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج کا تنگ منہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ یاد رہے ایران نے گزشتہ دو سالوں میں 15 بحری جہازوں پر قبضہ یا حملہ کیا ہے۔

امریکی بحریہ کے مشرق وسطیٰ میں قائم 5ویں فلیٹ کی نگرانی کرنے والے وائس ایڈمرل بریڈ کوپر نے اے پی کو بتایا کہ جہاز رانی کی صنعت اس بات کو ذہن میں رکھتی ہے کہ خطے میں سکیورٹی کی حالت کیسی ہے۔ ہمارے پاس اس اثر و رسوخ کو مثبت طور پر متاثر کرنے کی صلاحیت ہے اور اب ہم یہی کر رہے ہیں۔ جمعہ کو ایران کے گارڈ کی کشتیاں سان ڈیاگو سے باہر واقع پال ہیملٹن سے ایک ہزار گز یا 915 میٹر کے فاصلے پر آئی تھیں۔

کوپر نے کہا کہ پال ہیملٹن کا مشترکہ سفر اس دھکے کے ایک حصے کی نمائندگی کرتا ہے جس کا مقصد زیادہ اتحادی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے مستقل طور پر گزرنا ہے۔ تجارت کا وہ حجم جو آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے دنیا کی معیشت کے لیے اہم ہے۔

واضح رہے ایران طویل عرصے سے خطے میں امریکی موجودگی پر برہم ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے ایک طویل بیان میں امریکہ پر الزام لگایا گیا کہ وہ اپنی مداخلت پسندانہ اور تباہ کن پالیسیوں سے خلیجی خطے میں کئی دہائیوں سے عدم استحکام اور عدم تحفظ پیدا کر رہا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا میں اور نہ ہی پاسداران انقلاب کی طرف سے بحری جہاز پال ہیملٹن کے خلیج سے آبنائے عمان کے سفر کے بارے میں کوئی فوری ردعمل سامنے آیا۔ تاہمیہ ممکن نہیں تھا کہ ایرانیوں کو فوری طور پر معلوم ہو جائے کہ امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کمانڈر جہاز پر سوار تھے۔ حالانکہ تیز رفتار کشتیوں پر سوار پاسداران انقلاب کا کم از کم ایک رکن دوربین کے جوڑے کے ساتھ پال ہیملٹن کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے فوری طور پر اس سفر کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

آبنائے ہرمز کے سفر پر کم از کم ایک ایرانی ڈرون نے بھی پال ہیملٹن کو دیکھا۔ اسی دوران امریکی بحریہ کا ایک بوئنگ طیارہ بھی اوپر موجود تھا۔ امریکی افواج بھی معمول کے مطابق خطے میں ڈرون اڑا رہی تھی۔ نیوی ٹاسک فورس نے بھی کچھ ڈرونز کو سمندر میں اتار رکھا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں