چین کا گروپ سات کے اعلامیے پر شدید عدم اطمینان اور تحفظات کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چین نے گروپ سات کے رہ نماؤں کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے پر’شدید عدمِ اطمینان اور تحفظات‘ کا اظہار کیا ہے۔اس اعلامیہ میں بحیرہ جنوبی چین، انسانی حقوق اوران (گروپ سات) کی جمہوریتوں میں مبیّنہ مداخلت سمیت دیگر امور پرچین کو کڑی تنقید کانشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن سمیت سات امیر ممالک کے رہنما جمعہ سے جاپان کے شہر ہیروشیما میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

بلاک نے ایک بیان میں چین پرزور دیا ہے کہ وہ مداخلت کی سرگرمیوں سے دستبردار ہوجائے۔اس نے چین میں انسانی حقوق بالعموم اور اس کے مغربی علاقوں تبت اور سنکیانگ میں خصوصی طور پر انسانی حقوق کی مبیّنہ خلاف ورزیوں پرتشویش کا اظہارکیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جی سیون ممالک کو بحیرۂ جنوبی چین میں علاقائی تنازعات پر 'شدید تشویش' ہے اورانھوں نے بالواسطہ طور پر چین پر'جبرواستبداد' کو بروئے کارلانے کا الزام لگایا ہے۔

جی سیون کی جانب سے بیجنگ پر زوردیا گیا ہے کہ وہ یوکرین پرحملہ ختم کرنے کے لیے روس پر دباؤ ڈالے اور اس ضمن میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کی شام گروپ سات کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہارکیا ہے اورجوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جی 7 کےنقطہ نظرکی بین الاقوامی سطح پر کوئی ساکھ نہیں ہے‘‘۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ جی سیون نے چین سے متعلق معاملات میں ہیرا پھیری کرنے،چین کوبدنام کرنے اور اس پر حملہ کرنے پر زور دیا۔

ترجمان نے کہا کہ چین اس پر اپنےشدیدعدم اطمینان اور سخت مخالفت کا اظہار کرتا ہے اور سربراہ اجلاس کے میزبان ملک جاپان کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ فریقوں کوباضابطہ احتجاج ریکارڈ کراچکا ہے۔

گروپ سات کے بیان میں ’’آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کی اہمیت" پر زوردیا گیا تھا‘‘، لیکن بیجنگ نے تائیوان کی آزادی کی واضح مخالفت نہ کرنے پر بلاک کو تنقیدکا نشانہ بنایا۔

ترجمان نے کہا:’’جی سیون کا کہنا ہے کہ وہ ایک پرامن، مستحکم اور خوش حال دنیا کی طرف بڑھنا چاہتا ہے لیکن درحقیقت یہ عالمی امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے، علاقائی استحکام کونقصان پہنچا رہا ہے اور دوسرے ممالک کی ترقی کو روک رہا ہے‘‘۔

ہیروشیماکااعلامیہ جی سیون کے رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کا نتیجہ ہے۔تاہم وہ چین سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔امریکا سمیت بعض ممالک چین مخالف سخت مؤقف کے حامی ہیں جبکہ یورپ کے دیگر ممالک مزید محاذ آرائی سے بچنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں