روس اور یوکرین

’’ویگنرکے سربراہ کا بَخموت میں اعلانِ فتح محض علامتی ہے، کنٹرولڈ انخلا کا امکان نہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا میں قائم ایک تھنک ٹینک کے تجزیے کے مطابق روس کی نیم فوجی ملیشیا ویگنر کا یوکرین کے شہر بَخموت پر قبضہ صرف ایک "علامتی" فتح ہے۔یہ ماسکو کو یوکرین کی افواج کے خلاف کوئی تزویراتی کامیابی نہیں دیتی ہے اور اس گروپ کے سربراہ یوفگینی پریگوژن کے اعلان کردہ ٹائم فریم کے اندر ان کے جنگجوؤں کا کنٹرولڈ انخلا اورشہرکو روسی فوج کے حوالے کرنے کا امکان نہیں ہے۔

یوفگینی پریگوژن نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ان کی فورسز نے بَخموت شہر پر کامیابی سے قبضہ کر لیا ہے اور وہ 25 مئی تک دفاعی پوزیشنیں قائم کرنے اور روسی مسلح افواج کو کنٹرول سونپنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کریملن کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتین نے اتوار کے روز ویگنر اور روسی فوجیوں کو اس کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

بَخموت پر قبضے کی لڑائی گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری ہے ، جس نے اسے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے سب سے طویل اور خونریز محاذوں میں سے ایک بنا دیا ہے۔ گذشتہ سال اگست میں روسی فوجیوں کی جانب سے بخموت پر قبضے کی ناکام کوشش کے بعد ویگنر کے نیم فوجی دستوں کو میدان میں اتارا گیا تھا اور انھوں نے حالیہ روسی حملے کی قیادت کی تھی اور یوکرین کی افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے مارچ میں اے پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بخموت کو کھونا کیف کے لیے ایک مہنگی سیاسی شکست ہوگی اورصدرپوتین کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ اس فتح کو مغرب، اپنے معاشرے، چین اور ایران کو فروخت کریں۔

اتوار کو بَخموت کے بارے میں پوچھے جانے پر زیلنسکی نے کہا: ’’اس شہر آج تک روسی فیڈریشن نے قبضہ نہیں کیا ہے۔ اس کی کوئی دو یا تین تشریحات نہیں ہیں‘‘۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈی آف وار (آئی ایس ڈبلیو) نے اپنے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ ویگنر کا بَخموت میں فتح کا دعویٰ ایک کھوکھلی ’علامتی‘ فتح ہے۔ نیزروسیوں کی جانب سے جن علاقوں پر دعویٰ کیا جاتا ہے وہ 'حکمت عملی یا آپریشنل طور پر اہم نہیں ہیں۔

آئی ایس ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق ’’ان کے قبضے سے روسی افواج کو آپریشنل طور پر اہم علاقہ نہیں ملے گا تاکہ وہ جارحانہ کارروائیاں جاری رکھ سکیں یا کوئی خاص طور پر مضبوط پوزیشن حاصل کرسکیں جہاں سے وہ یوکرین کے ممکنہ جوابی حملوں سے دفاع کرسکیں‘‘۔

آئی ایس ڈبلیو نے اندازہ لگایا:’بَخموت پر قبضہ کرنے سے کوئی ٹھوس بنیاد فراہم نہیں ہوگی جس سے جارحانہ مہمات شروع کی جا سکیں۔پریگوژن کا بخموت میں بقیہ بلاکوں پر قبضہ تزویراتی طور پر اہم نہیں ہے کیونکہ اس سے تھکے ہوئے ویگنر یا روایتی روسی افواج کو مزید جارحانہ کارروائیوں کے لیے ایک بامعنی اسپرنگ بورڈ قائم کرنے کی اجازت نہیں ملے گی‘‘۔

مزید برآں، تھنک ٹینک نے ویگنر گروپ کے شہر سے کنٹرولڈ انخلا اور اسے روسی فوج کے حوالے کرنے کی صلاحیت پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

اس نے کہا ہے کہ ’’ویگنر افواج کے 25 مئی تک یوکرین کے جوابی حملوں کو روکنے کے لیے بخموت میں مناسب دفاع قائم کرنے یا حالیہ کامیابیوں کو مستحکم کرنے کا امکان نہیں ۔ شہر سے دشمن کے ساتھ رابطے میں انخلا ایک انتہائی مشکل کام ہے اور ویگنر گروپ کی جانب سے پریگوژن کے پانچ دن کے ٹائم فریم کے اندر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا امکان نہیں ہے۔ رابطے میں رہتے ہوئے امدادی کارروائیاں کرنا بھی ایک انتہائی چیلنج ہوگا جسے انجام دینے کے لیے روسی افواج کو ممکنہ طور پر جدوجہد کرنا پڑے گی‘‘۔

تھنک ٹینک نے ویگنر فورسز اور روسی وزارت دفاع کے درمیان ’’ناقص رابطہ کاری‘‘کو "ریلیف ان پلیس" آپریشن کی راہ میں ایک اور رکاوٹ قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں