ایران جوہری معاہدہ

ایران ’نئی سرگرمیوں‘ پرعالمی معائنہ کاروں سے تعاون کرے گا:جوہری سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت کسی بھی نئی سرگرمیوں کے بارے میں بین الاقوامی معائنہ کاروں کے ساتھ تعاون کرے گی۔

ان کا یہ بیان امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی )کی ایک خصوصی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔اس میں ایران کی یورینیم کو افزودہ کرنے کی ایک تنصیب کے قریب نئے زیر زمین نظام کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

اس رپورٹ میں یہ خاکا پیش کیا گیا تھا کہ ایک پہاڑ کے اندر کتنی گہرائی میں نطنز تنصیب کے قریب نئی سرنگیں تعمیر کی جارہی ہیں اور یہ ممکنہ طور پر ایسے مقامات کو تباہ کرنے کے لیے امریکا کے پس آخری ہتھیار کئی ہزار کلو وزنی تباہ کن بم کے ہدف سے باہر ہیں۔

اس رپورٹ نے مشرق اوسط میں اس عمارت کی تعمیر کے بارے میں وسیع تر بحث کو جنم دیا ہے اور اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر نے منگل کے روز کہا کہ یہ جگہ حملے سے محفوظ نہیں رہے گی، بھلے ہی اس کی گہرائی اسے امریکی فضائی حملوں کی حد سے باہر کر دے۔

ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کی اس جگہ میں دلچسپی کو دباؤ محسوس کرنے کا معاملہ قراردیاہے۔

انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ویانا میں قائم بین الاقوامی جوہری ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حفاظتی اقدامات کے تحت کام کررہا ہے اور وہ نئی سرگرمیاں شروع کرنا چاہتا ہے تو وہ اس ادارے کے ساتھ تعاون کرے گا اور اس کے مطابق کارروائی کرے گا۔

آئی اے ای اے نے تہران سے قریباً 225 کلومیٹر (140 میل) جنوب میں نطنز میں نئی جوہری تنصیب کی تعمیر کے بارے میں اے پی کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ نطنزکی جوہری تنصیب کے بارے میں دو عشرے قبل پتا چلا تھا اور اس کے بعد سے یہ بین الاقوامی تشویش کا باعث رہی ہے۔

کھدائی سے کی سیٹلائٹ تصاویر اور اے پی سے بات کرنے والے ماہرین سے پتا چلتا ہے کہ نئی سرنگیں 80 میٹر (260 فٹ) اور 100 میٹر (328 فٹ) کے درمیان گہری ہوں گی۔

امریکی فوج کے مطابق اس طرح کی زیرزمین تنصیبات نے امریکاکو جی بی یو-57 بم تیار کرنے پر مجبور کیا، جو پھٹنے سے پہلے زمین کے اندر کم سے کم 60 میٹر (200 فٹ) تک اندر دھنس سکتا ہے۔

امریکی حکام نے مبیّنہ طور پر اس جگہ کی تباہی یقینی بنانے کے لیے دو تباہ کن بموں کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اس طرح کے ایک یا دو بم گرانے سے نطنز کی طرح کی گہری تنصیب کوکیا نقصان پہنچے گا۔

اس طرح کے بموں کے استعمال کو خارج از امکان قرار دینے دے سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پاس نطنز کی تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے بہت کم اختیارات رہ گئے ہیں۔ اگر ایران کے متروک جوہری معاہدے پر کئی ماہ سے جاری سفارت کاری تعطل کا شکار رہی تو تخریبی حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ نئی تعمیر جولائی 2020 میں نطنز میں زمین کی سطح پر حملے کا نشانہ بننے والے سینٹری فیوجز مینوفیکچرنگ مرکز کی جگہ لے گی۔ یہ پُراسرار دھماکے اور آگ سے متاثر ہوا تھا۔ تہران نے اس تخریب کاری کا الزام اسرائیل پرعاید کیا تھا۔ایران طویل عرصے سے اسرائیل پریہ الزام عاید کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ اس کے جوہری پروگرام کے خلاف تخریب کاری کی مہم چلا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں