روس اور یوکرین

بحیرۂ اسود میں یوکرین کی برق رفتارکشتیوں کا روس کے جنگی جہاز ایفان ہرس پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے جنگی جہاز ایفان ہرس پر بحیرۂ اسود میں آبنائے باسفورس کے قریب یوکرین کی بغیر عملہ برق رفتار کشتیوں نے حملہ کیا ہے۔

روس کی وزارت دفاع نے بدھ کے روز اس حملے کی اطلاع دی ہے اور ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگی جہاز ترک اسٹریم اور بلیو اسٹریم گیس پائپ لائنوں کی حفاظت پرمامورتھا۔ان پائپ لائنوں کے ذریعے روس سے ترکیہ کوگیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ان کا کچھ حصہ بحیرۂ اسود سے ہوکر گذرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے باسفورس سے 140 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک روسی بحری جہاز کے معیاری اسلحہ سے فائرنگ سے دشمن کی تمام کشتیاں تباہ کردی گئی ہیں۔

یوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔روسی وزارت دفاع نے اس حملے کو دفاعی اقدامات میں توسیع کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں دھماکوں سے بحیرہ بالٹک کے ذریعے روس سے جرمنی جانے والی نارڈ اسٹریم 1 اور 2 پائپ لائنوں کو نقصان پہنچا تھا۔

روس کے اس بیان سے بحیرۂ اسود میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔روس نے گذشتہ ہفتے ہی ڈیڈ لائن سے ایک دن پہلے یوکرین کو اپنی بندرگاہوں سے محفوظ طریقے سے اناج برآمد کرنے کی اجازت دینے سے متعلق معاہدے میں توسیع سے اتفاق کیا تھا۔

ترک اسٹریم کے ذریعے روس کے جزیرہ نما تمان سے بحیرہ اسود کے چوڑے پٹ سے آبنائے باسفورس کے مغرب میں ایک مقام تک گیس پہنچائی جاتی ہے۔تاہم بلیو اسٹریم مشرقی بحیرۂ اسود کو شمال سے جنوب کی طرف عبور کرتی ہے اور باسفورس سے 700 کلومیٹردور مشرق میں زمین سے ملتی ہے۔

واضح رہے کہ ایفان ہرس روس کا درمیانے درجے کا جاسوس جہاز ہے۔اسے 2013 میں پانیوں میں اتارا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں