کیا مصر اخوان المسلمین کے مرشد اور سرکردہ رہنماؤں کی سزائے موت پر عمل درآمد کرے گا؟

مصر کے آئین کے آرٹیکل 155 کے مطابق حتمی سزائے موت کی صورت میں سربراہ مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سزا کو مکمل طور پر معاف کردے، سزا کو کم کرنے یا اس پر غور کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ جاری کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کی ریاستی سکیورٹی سے متعلق ایمرجنسی فوجداری عدالت نے اخوان المسلمین کے 8 سرکردہ رہنماؤں کی سزائے موت کے حوالے سے فیصلے پر قانونی رائے لینے کے لیے ملک کے مفتی اعظم کے پاس بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔ تاکہ وہ انہیں 2013 کے پر تشدد واقعات کے لیے مجرم قرار دیں۔

عدالت نے جواب موصول ہونے کے بعد مقدمے کا حتمی فیصلہ سنانے کے لیے آئندہ 20 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے جس میں اخوان کے 79 ملزمان رہنماؤں اور ارکان کو پھانسی کی سزا سنائی جائے گی۔

جن رہنماؤں کو سزا سنائی گئی ان میں اخوان المسلمین کے لیڈر محمد بدیع، قائم مقام لیڈر محمود عزت، محمد البلتاجي، عمرو زکی، اسامہ یاسین، اور صفوت حجازی، نیز اسلامی گروپ کے رہنما عاصم عبدالمجید ، اور سلفی مبلغ، محمد عبدالمقصود شامل ہیں۔

ان آٹھ رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے النصر شاہراہ پر رابعہ عدویہ دھرنے کے بعد احتجاج کی منصوبہ بندی کی، سکوائر میں نصب یادگار تک دھرنے کو پھیلانے کی کوشش کی اور سکیورٹی فورسز کو مستقبل میں دھرنے کو منتشر کرنے سے روکنے کے لیے پورے علاقے میں نقل وحرکت مفلوج کرنے کے علاوہ، انہوں نے مظاہرین کو ہتھیار، گولہ بارود اور آتشیں اسلحہ فراہم کیا۔
ان پر دیگر 79 ملزمان کے لیے منصوبہ بندی اور ذمہ داریاں تفویض کرنے کا بھی الزام ہے۔

ملزمان سے پولیس افسر شریف السبائی عبدالصادق کی ہلاکت کے بارے میں بھی تفتیش جاری رہی جو اس ہنگامے میں مارے گئے تھے جس کی قیادت دو اخوان رہنما، اسامہ یاسین اور صفوت حجازی نے کی تھی۔ اس ہنگامے میں 14 عام شہریوں کی جانیں بھی گئیں۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر 10پولیس اہلکاروں اور 7 دیگر شہریوں کو مارنے کی کوشش بھی کی گئی۔

پراسیکیوشن نے 57 عینی شاہدین کی گواہی کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف مقدمے قائم کیے، جن میں افسران، ملازمین اور شہری بھی شامل تھے۔

اس فیصلے کے فوراً بعد، جو اعلی سطحی رہنماؤں کے خلاف اس نوعیت کا دوسرا تھا، اخوان کی صفوں میں سراسیمگی پھیل گئی، اور دنیا بھر سے تنظیم کے رہنماؤں نے عالمی برادری سے ان سزاؤں پر عمل درآمد روکنے کے لیے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا۔

صلاح عبدالحق کی قیادت میں لندن فرنٹ نے ایک بیان میں حکومتوں، قومی اور عوامی قوتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان مقدمات کو روکنے کے لیے مداخلت کریں اور مصری جیلوں میں قید تمام اخوان رہنماؤں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں۔

اخوان رہنما محمود حسین کی قیادت میں استنبول فرنٹ نے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر اس سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے لیے مصری حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں تیز کرنا شروع کیں، اور ذیلی ادارہ "مصری انقلابی کونسل" کو بھی فعال کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی انجمنوں اور تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی مصری عدالت نے رابعہ کے واقعات میں اخوان کے 12 رہنماؤں کو پھانسی دینے کا حتمی فیصلہ جاری کیا تھا۔ جسے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے بھی برقرار رکھا۔

ان رہنماؤں میں عبدالرحمن البر، محمد البلتاجی، صفوت حجازی، اسامہ یاسین، احمد عارف، ایہاب واجدی، محمد عبد الح‏ي، مصطفی عبد الحي الفرماوی، احمد فاروق کامل، اور ہیثم السید العربی، اور محمد محمود علی زناتی، اور عبد العظیم ابراہیم محمد شامل تھے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مصری حکام اس فیصلے کے جاری ہوتے ہی کیا فورا ان پر عمل درآمد کریں گے؟ اور یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ رابعہ کیس میں سزائے موت کی حتمی سزا پر عمل درآمد میں تاخیر کیوں ہوئی، حالانکہ یہ دو سال قبل جاری کیا گیا تھا؟

مقدمے کے وکیل اور اخوان المسلمون کے سابق رہنما مختار نوح کہتے ہیں کہ قانون کی زبان میں پہلا قیاس ہے کہ جو سب سے زیادہ کا مالک ہے وہ کم سے کم کا بھی مالک ہے۔

محمد بديع

اس طرح جسے سزا معاف کرنے کا حق حاصل ہے، سزا پر عمل درآمد یا اسے ملتوی کرنے یا نفاذ میں جلدی اور تاخیر کا اختیار بھی اسی کے پاس ہے۔

مصر کے آئین کے آرٹیکل 155 کے مطابق، جو 2014 میں جاری کیا گیا تھا، ملزم کے لیے حتمی سزائے موت کی صورت میں، سربراہ مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سزا کو مکمل طور پر معاف کردے، سزا میں تخفیف یا نظر ثانی کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ جاری کرے۔

انہوں نے العربیہ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حتمی سزا کے فیصلے کو صدر کی جانب سے ملتوی کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں معاف کر دیا جائے گا۔

معروف سیاسی محقق احمد عطا نے العربیہ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ لندن میں گروپ کی بین الاقوامی تنظیم اور اس کے رہنماؤں کے قریبی ذرائع کے مطابق - "لوزان موومنٹ" کے نام سے ایک منصوبے پر عمل درآمد شروع کیا گیا ہے، جو نہ صرف رہنماؤں کی سزائے موت بلکہ اس لائحہ عمل کے مطابق کام کر رہا ہے کہ تمام مقدمات میں معافی کیسے حاصل کی جائے۔

اس کے لیے، شمالی افریقہ میں اخوان رہنماؤں کے ایک گروپ کو جو اپنے ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور متعدد یورپی ممالک میں فیصلہ ساز حلقوں سے مضبوط تعلقات رکھتے ہیں، کو یہ کام سونپا گیا ہے کہ وہ مصری رہنماؤں کو بچانے کے لیے اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔

مصری محقق کے مطابق ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی تنظیم کے 5 رہنما پہلے ہی سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں متحرک ہیں، اور وہاں سے عالمی سطح پر رابطے کر رہے ہیں۔

تاہم، عطا نے خیال ظاہر کیا کہ اخوان کے خلاف مصری عدلیہ کا فیصلہ حرف آخر ہے اور کوئی بھی اس کے فیصلوں میں مداخلت، یا مداخلت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں