بشار الاسد پر مقدمہ چلانے کا فرانسیسی ہسٹریائی مطالبہ قابل مذمت ہے: شام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام نے فرانس کے سفارت کار کی جانب سے شامی جنگ میں کردار پر بشار الاسدکے کردار پر مقدمہ چلانے کے مطالبے کو ‘‘ ہسٹریا’’ قرار دے دیا اور اس کی شدمت مذمت کی ہے۔

منگل کو ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ چاہتی ہیں کہ شامی رہنما پر مقدمہ چلایا جائے، فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے کہا کہ "جواب ہاں میں ہے۔"

فرانس کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بشار الاسد نے جمعہ کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ کے بعد عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے برسوں کی علاقائی تنہائی کے بعد عربوں میں واپسی کی ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے حال ہی میں فرانسیسی سفارت کاری کے ہسٹیریا اور الگ تھلگ موقف کو دیکھا ہے۔ فرانس شام کے حوالے سے سعودی عرب میں ہونے والے عرب سربراہی اجلاس کے تاریخی فیصلوں کے بعد اپنے ہوش و حواس کھو چکا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پسماندہ فرانسیسی سفارت کاری کو اپنی پوزیشن پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ فرانس پر "نوآبادیاتی دور کی وراثت کو بحال کرنے" کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔

مغربی ممالک نے شام کی حکومت اور اس سے منسلک افراد اور اداروں پر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل دمشق کی جانب سے مظاہرین پر جبر برتے جانے کے بعد پابندیاں عائد کی تھیں۔

شام میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور ملک کا زیادہ تر انفراسٹرکچر اور صنعت تباہ ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں