زلزلے کے بعد شمالی شام میں موبائل بسوں میں بچوں کو پڑھانے کا اہتمام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شمالی شام میں رواں سال چھ فروری کو آنے والے خوفناک زلزلے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اسکول اور ان میں زیرتعلیم بچے بھی متاثر ہوئے تھے۔ اسکولوں کی بحالی کا عمل مکمل نہیں ہوسکا مگر اسکول انتظامیہ نے تباہ ہونے والی عمارتوں کا متبادل موبائل بسوں کی شکل میں اختیار کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں زیادہ تر پناہ گزینوں کے کیمپ ہیں جہاں یہ بسیں ان کیمپوں کے بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

بچوں کی تعلیم اور ان کے نفسیاتی مسائل میں ان کی مدد کے لیے کلاس رومز کی طرز پر سجائی گئی موبائل بسیں جگہ جگہ دیکھی سکتی ہیں۔ ان بسوں میں ان بچوں کو پڑھایا جاتا ہے جن کے اسکول تباہ ہوگئے تھے۔

ویسے تو شمالی شام میں اس طرح کی رنگا رنگ بسیں جگہ جگہ دیکھی جا سکتی ہیں مگرتُرکیہ کی سرحد کے قریب حلب گورنری علاقے جیندیرس اور اس کے مضافات میں ایک بس اس علاقے میں تباہ ہونے والےاسکولوں کے بچوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔

شمالی شام میں بچوں کو پڑھانے کے لیے موبائل بس

خیال رہے کہ شمالی شام کے اس علاقے میں چھ فروری کو آنے والے تباہ کن زلزلے میں کم سے کم چھ ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

بچے خوشی اور جوش کے ساتھ نعروں ،تدریسی عبارتوں اور تصاویر کے ساتھ سجائی رنگین بسو کے ارد گرد جمع ہوتے ہیں۔ اس میں "حروف کی ٹرین" بھی شامل ہے۔ پھر وہ یکے بعد دیگرے بس کے اندر اپنی اپنی کلاس میں جاتے ہیں جہاں وہ عربی، انگریزی، سائنس اور ریاضی کے مضامین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

ایک سبق کے دوران، طلباء بس کے اندر لکڑی کی نشستوں پر بیٹھے ہوئے استاد کے ساتھ گا کر اپنا سبق یاد کرتے ہیں جہاں وہ انگریزی کے الفاظ سیکھتے ہیں۔

10 سالہ جواہر ہلال پانچویں جماعت کی طالبہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہم جیندریس میں رہ رہے تھے جب زلزلہ آیا۔ عمارت گر گئی اور ہمارے پاس پناہ گاہ نہیں رہی۔

ایک خیمے میں بیٹھے ہوئے جواہر نے کہا کہ ہم یہاں رہنے کے لیے آئے مگر یہاں اسکول ہم سے بہت دور ہےلیکن بسیں آئیں اور ہم نے سیکھنا شروع کر دیا۔ ہم بہت سے سبق سیکھتے ہیں۔"

دوسری طرف اس اقدام کے پیچھے ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم اورنج کے ایک تعلیمی افسر رعد العبد نے کہا کہ"موبائل یونٹ زلزلے سے متاثرہ بچوں کو تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔"

انہوں نے وضاحت کی کہ "بسیں 27 کیمپوں میں سروسز فراہم کررہی ہیں اور ان کے درمیان یکے بعد دیگرے آتی جاتی ہیں۔ جیندریس اور اس کے ارد گرد 3,000 سے زیادہ طلباء ان کی خدمات سے مستفید ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں