امریکا سویڈن کے نیٹو میں شمولیت کے لیے ترکیہ اور ہنگری کی منظوری کے لیے پُرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قائم مقام امریکی معاون وزیر خارجہ برائے یورپی امور ڈیرک ہوگن نے کل جمعہ کو کہا ہے کہ امریکا ترکیہ اور ہنگری کی جانب سے نیٹو میں شمولیت کے لیے سویڈن کی درخواست کی توثیق کا منتظر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو نیٹو کے جولائی میں لتھوانیا کے دارالحکومت ولنیئس میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے پہلے سویڈن کی شمولیت کے لیے ترکیہ اور ہنگری کی منظوری کی توقع رکھتا ہے۔

ہوگن نے ایک ٹیلی فون بریفنگ میں اتوار کو ہونے والے ترک صدارتی انتخابات کے دوسرے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ظاہر ہے یہ ہماری بات چیت اور نئی ترک حکومت کے ساتھ ہماری مصروفیت کا ایک جاری حصہ ہو گا" ۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے ترک حکومت کے ساتھ وسیع بات چیت کی ہے اور ہم نے اپنے مکمل یقین کا اظہار کیا ہے کہ سویڈن اس اتحاد کا رکن بننے کے لیے تیار ہے"۔

دوسری طرف سویڈن کے وزیر خارجہ ٹوبیاس بلسٹروم نے کل جمعہ کو کہا کہ ان کا ملک ولنیئس میں جولائی میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) میں رکنیت حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی متبادل منصوبہ نہیں ہے۔ ہمارا منصوبہ نیٹو میں مکمل رکنیت حاصل کرنا ہے۔ حکومت اور میں اب سے ولنیئس سربراہی اجلاس کی تاریخ تک یہی کام کریں گے۔

فن لینڈ اور سویڈن نے یوکرین پر روس کے حملے اور مشرق میں اتحاد کی توسیع کو روکنے کے ماسکو کے مطالبے کے براہ راست نتیجے کے طور پر نیٹو میں شامل ہونے کی کوشش کی۔ فن لینڈ نے 4 اپریل کو باضابطہ طور پر نیٹو میں شمولیت اختیار کی اور اس کا اکتیسواں رکن بن گیا، لیکن سویڈن نے ابھی تک دو ارکان ترکیہ اور ہنگری سے منظوری حاصل نہیں کی تاہم اس کے لیے کوسششیں جاری ہیں۔ انقرہ نے سویڈن پر کرد جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام لگایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں