امریکہ کن ممالک سے قرضہ لیتا ہے؟ کیا امریکی ڈالر کی پوزیشن برقرار رہے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ میں قرض کی حد میں اضافے کے بحران کے حوالے سے ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقتوں میں سے ایک اگلے جون کی پانچ تاریخ کو اپنے واجبات ادا کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔

دنیا کی نظریں’’ڈالر‘‘ کی طرف لگ گئیں ہیں اور دنیا بھر کی طاقتور ترین کرنسیوں کے متاثر ہونے کے امکان پر سوالات اٹھنے لگے۔ آگے کیا ہوگا؟ اس کا جواب عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی "موڈیز" کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ "امریکی کرنسی ممکنہ طور پر تمام چیلنجوں کے باوجود دنیا بھر کی تمام کرنسیوں میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھے گی۔"

معروف ایجنسی موڈیز نے پوری دنیا میں امریکی ڈالر رکھنے والوں اور اس سے وابستہ مختلف کرنسیوں کے حاملین کو یقین دلایا ہے کہ آنے والے عرصے میں یہ سبز کرنسی ہی عالمی سطح پر غالب رہے گی۔

امریکہ کو قرض دینے والے بڑے پانچ ممالک

لیکن اس ہنگامے کے درمیان جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے ممالک ہیں جو امریکی قرضوں کی سب سے زیادہ رقم اپنے پاس رکھتے ہیں؟ چین اور جاپان کی قیادت میں پانچ ملک ایسے ہیں جن کا قرضہ امریکہ پر ہے۔ انفارمیشن سائٹ USFACT کے مطابق گزشتہ 20 برس میں جاپان اور چین نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ امریکی ٹریژری بانڈز اپنے پاس رکھے ہیں۔

2000 اور 2022 کے درمیان جاپان کا حصہ 534 بلین ڈالر سے بڑھ کر ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا اور چین کی ملکیت 101 بلین ڈالر سے بڑھ کر 855 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ 2004 اور 2006 کے درمیان دونوں ملکوں کے پاس امریکی قرضوں کا تقریباً 50 فیصد تھا۔ تاہم اس فیصد میں بعد میں کمی بھی آئی اور 2022 تک وہ غیر ملکی ملکیت والے امریکی قرضوں کے تقریباً 25 فیصد کو کنٹرول کر رہے تھے۔

وہ پانچ ممالک جو جنوری 2023 تک امریکی قرضوں کی سب سے زیادہ رقم کے مالک ہیں ۔ ان میں جاپان 1.1 ٹریلین ڈالر، چین 859 بلین ڈالر، برطانیہ 668 بلین ڈالر، بیلجیئم 331 بلین ڈالر اور لکسمبرگ 318 بلین ڈالر کے ساتھ شامل ہیں۔

یہ ملک امریکی قرضہ کیوں خرید رہے

شاید غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے امریکی خزانے خریدنے کی سب سے مضبوط وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا کے محفوظ ترین اثاثوں میں شمار ہوتے ہیں۔ امریکی حکومت خواہ اس ڈیموکریٹ ہو یا ریپبلکن ہو قرضوں کی بروقت ادائیگی کے لیے پرعزم رہتی ہے۔ یہ صورتحال معاشی غیر یقینی کے اس دور میں بہت پرکشش ہے۔ درحقیقت ٹریژری بلز کی شکل میں امریکی ڈالر رکھنا بہت سی غیر ملکی مالیاتی پالیسیوں کا حصہ ہے۔

امریکی ڈالر کی ایک بڑی رقم رکھنا بہت فائدہ مند ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی تجارت اور لین دین میں ایک وسیع پیمانے پر قبول شدہ کرنسی ہے۔ یو ایس ٹریژری بانڈز کا مالک ہونا اضافی فوائد بھی فراہم کر سکتا ہے۔ ان فوائد میں پورٹ فولیو ڈائیورسیفکیشن اور دنیا کے دیگر سرکاری بانڈز کے مقابلے میں واپسی کی زیادہ شرح بھی شامل ہے۔

اب کیا ایوان نمائندگان میں بائیڈن انتظامیہ اور ریپبلکنز میں حالیہ تنازع سے ڈالر سے متعلق حقائق کو ختم کیا جا سکتا ہے؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں