روسی عہدیدار کا یوکرین پرپیشگی جوہری حملے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ اگر روس نے "نازیزم" پر فیصلہ کن فتح کے ساتھ اسے حل نہیں کیا تو یوکرین کا تنازع "کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتا ہے"۔

اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے متنازع سمجھے جانے والے روسی عہدیدار نے کہا کہ یوکرین جنگ کا پانسہ پلٹنے یا روس کو لاحق خطرے کی صورت میں کیئف پر جوہری حملہ کیا جا سکتا ہے۔ میدویدیف نے ویتنام کے دورے کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ یوکرینی تنازع "طویل عرصے، شاید دہائیوں تک جاری رہ سکتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک نئی حقیقت ہے اور زندگی کے لیے نئے حالات ہیں۔ جب تک یہ قوت موجود رہے گی، مثال کے طور پر تین سال کی جنگ بندی کے بعد دو سال کی لڑائی، ہر بار صورتحال بھڑکتی رہے گی۔"

اسی تناظر میں انہوں نے کہ "یورپ پاگل ہو چکا ہے اور ہر طرح سے حالات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے" انھوں نے اس بات کو رد نہیں کیا کہ یورپی ممالک اور امریکا کیئف کو جوہری ہتھیار فراہم کریں گے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یورپی یونین اور امریکا کی طرف سے کیف کو F-16 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کے فیصلے سمیت موجودہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغرب بھی جوہری ہتھیاروں کو جنگ میں پھینکنے کا رجحان رکھتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے لیے روس کو پیشگی حملہ کرنا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ جوہری چارج والا میزائل ان تک پہنچ جائے گا۔ یہ جنگ کے ناقابل واپسی قوانین ہیں۔"

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطرے کی سطح میں اضافہ نہیں ہوا ہے، کیونکہ روس پہلے ہی اپنے جوہری ہتھیاروں سے ممکنہ اہداف تک پہنچنے کے قابل ہے۔ امریکن انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے مبصرین نے کہا کہ روس کے جوہری ہتھیاروں کی بیلاروس کو منتقلی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یوکرین پر کریملن کی جنگ میں شدت سے متعلق کوئی بڑا خطرہ ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کے تجزیے کے مطابق ابھی تک اس بات کا امکان نہیں ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین یوکرین میں، یا کہیں اور جوہری ہتھیار استعمال کریں گے۔ انسٹی ٹیوٹ کے بیانات بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے جمعرات کے روز جاری بیان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ ان کے ملک کو اسلحے کی منتقلی کا منصوبہ صدر پوتین سے ملاقات سے پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

ماسکو کے مطابق ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار جو اسٹریٹجک نیوکلیئر میزائلوں سے کم رینج کے حامل ہیں، پولینڈ کے ساتھ بیلاروس کی سرحد پر نصب کیے جائیں گے۔ تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ بیلاروس میں ان ہتھیاروں کی موجودگی بنیادی طور پر پڑوسی ملک میں روس کے فوجی انفراسٹرکچر اور کمانڈ ڈھانچے کی توسیع کو فائدہ پہنچاتی ہے۔

میدویدیف نے کہا کہ جب جوہری ہتھیاروں کی بات آتی ہے تو اس کے لیے قبل از وقت حملہ کرنا ضروری ہو گا۔

برطانیہ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ کیف کو ختم شدہ یورینیم پر مشتمل میزائل فراہم کرے گا، جسے ماسکو نے ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا۔

قابل ذکر ہے کہ میدویدیف جو یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے جوہری جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں نے حال ہی میں "ٹیلی گرام" نیٹ ورک میں اپنے چینل پر لکھا کہ "موجودہ تنازع کے نتیجے میں یوکرین نقشے سے غائب ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیف کو دو منظرناموں کا سامنا ہے: "کیف کو شکست دینے کے بعد یہ ملک ٹوٹ جائے گا۔ یہ آہستہ آہستہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا یا ریاست فوری ختم ہوجائے گی۔

میدویدیف نے یوکرین کو تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ مشرق روس میں شامل ہو جائے اور مغرب کے علاقے یورپی یونین کے کئی رکن ممالک میں ضم ہو جائیں، جب کہ وسطی علاقوں کے باشندے پھر روس میں شامل ہونے کے حق میں ووٹ دے سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں