سعودی عرب میں نجی تعلیمی اداروں کے بانی الشیخ محمد الخضیر انتقال کرگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں نجی تعلیم کے علمبرداروں اور بانیوں میں شمار کیے جانے والے تاجر محمد بن ابراہیم الخضیر انتقال کر گئے۔ مرحوم نےاپنے ذاتی خرچ پر السہباء اور خفس دغرہ پرائمری اسکول قائم کیے، تاہم بعد میں انہیں سرکاری اسکولوں میں ضم کر دیا گیا۔

مرحوم محمد الخضیر کے بہت سے دوستوں اور تعلیمی برادری کے جاننے والوں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔

القصیم ریجن کے نائب گورنر شہزادہ فہد بن ترکی بن فیصل بن ترکی بن عبدالعزیز نے بھی ایک فون کال میں ان کے اہل خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

مرحوم نے 70 سال قبل اپنی نجی اور اس وقت کی معمولی تنخواہ سے تعلیم کا سہارا لے کر اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ پھر انہوں نے تربیہ نموذجیہ اسکول، الیمامہ یونیورسٹی اور لڑکوں اور لڑکیوں کے درجنوں اسکول بنائے۔

محمد الخضیر کا قائم کردہ سکول
محمد الخضیر کا قائم کردہ سکول

اپنے عملی کیرئیر کے دوران وہ بہت سے عہدوں پر فائز رہے۔ الخضیر 1949 سے 1954 کے درمیان سعودی آرامکو میں استاد اور مترجم تھے۔ وہ "نیشنل کمپنی فار لرننگ اینڈ ایجوکیشن" کے شیئر ہولڈر بھی رہے جس میں وہ چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے۔ان کے پاس اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرزعہدہ 2002 سے 2019 تک رہا۔

سنہ 2012 سے "وقف محمد ابراہیم الخضیر فاؤنڈیشن" کے مرحوم مالک اور "الخضیر ہولڈنگ گروپ" اور "رواد الوطن رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ کمپنی" سمیت متعدد کمپنیوں میں پارٹنر اور جنرل منیجر بھی رہے۔۔

70 برس قبل بچوں کے سکول کا ایک منظر
70 برس قبل بچوں کے سکول کا ایک منظر

سنہ 2021 کے آخر میں انہیں القصیم کے علاقے میں ریاض الخبرا میں واقع ان کے گھر پر "وطن کے لیے دینے اور وفاداری کے نمونے" کے طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔ انہوں نے کئی رفاعی شعبوں میں امیر القصیم شہزادہ فیصل بن مشعل کے ہاتھوں اعزازات حاصل کیے۔ گذشتہ فروری میں القصیم میں مرحوم محمد الخضیر کے شعبہ تعلیم کے لیے وقف فاؤنڈیشن کے لیے 50 ملین ریال کا عطیہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں