100 ویں سالگرہ کے موقع پر ہنری کسنجر کی پاکستان سمیت عالمی تنازعات سے جڑی یادیں

امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارتی اہلکار کے طور پر کسنجر کئی تنازعات کا شکار رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی بات کو دنیا کے سرکردہ لیڈر آج بھی توجہ سے سنتے ہیں۔ جغرافیائی سیاسی مسائل پر وہ اہم مشورے دیتے ہیں جو آج بھی متاثر کن ہوتے ہیں۔

ہنری کسنجر آج بروز سنیچر [بمطابق 27 مئی] کو اپنی 100ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے نیویارک اکنامک کلب میں اپنی صد سالہ تقریب میں شرکت کی تھی جہاں انہوں نے چاکلیٹ کیک پر موم بتیاں روشن کی تھیں۔

طویل عمر پانے والے امریکی سفارت کار کو ایک طرف کچھ لوگ بصیرت رکھنے والا دانشور سمجھتے ہیں تو دوسری جناب بعض دیگر افراد انہیں جنگی مجرم بھی قرار دے رہے ہیں۔ اس سب کے باوصف ایک دانش مند سفارت کار کے طور پر اپنی قدرے جھکی ہوئی کمر اور بڑے سیاہ فریم والی مشہور شیشے والی عینک کے ساتھ وہ اب بھی فعال ہیں۔

وہ شاذ و نادر اور بیشتر ویڈیو کے ذریعے ہی عوام میں نظر آتے ہیں جیسا کہ گزشتہ جنوری میں وہ ڈیووس میں وہ اسی طرح سامنے آئے تھے۔ تاہم 20 ویں صدی کے دوسرے نصف میں امریکی خارجہ پالیسی پر اپنی شناخت ثبت کرنے والی اس شخصیت کا اس قدر سرگرم رہنا بھی ایک غیر معمولی بات ہے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ایک طویل اور انتہائی متنازعہ سفارتی ریکارڈ کے ساتھ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں امریکی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ یہاں اس چوٹی کے سابقہ امریکی سفارت کار کے دو امریکی صدور رچرڈ نکسن اور جیرالڈ فورڈ کے ساتھ قومی سلامتی کے مشیر اور سیکرٹری آف اسٹیٹ کی حثیت سےکردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔

پاکستان کے تعاون سے چین کے ساتھ مذاکرات

کسنجر نے پاکستان کی وساطت سے کمیونسٹ چین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے مشن پر جولائی 1971ء میں خفیہ طور پر اسلام آباد سے بیجنگ کے لیے اڑان بھری تھی۔ ان کا یہ دورہ آنے والے سالوں میں نہ صرف ایشیاء کے خطے بلکہ عالمی سطح پر بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

اس دورے میں وہ امریکی صدر رچرڈ نکسن کے ایک معتمد کے طور پر چینی قیادت سے ملنے کے لیے پہنچے تھے۔ یہ اس لحاظ سے ایک تاریخی دورہ مانا جاتا ہے کہ اس نے روس کے ساتھ سرد جنگ کے کامیابی سے خاتمے کے لیے امریکہ جبکہ دنیا میں اپنی تنہائی ختم کرنے اور امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت بننے میں چین کی مدد کی۔

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر
سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر

کسنجر نے نو سے گیارہ جولائی سن انیس سو اکہتر کو بیجنگ کا جو تین روزہ دورہ کیا اس کے لیے پاکستان کی مدد سے پس پردہ تیاریاں لگ بھگ دو سال قبل سے جاری تھیں۔ اس کی وجہ صدر نکسن کے اقتدار میں آنے سے قبل ہی چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ دیا جانا تھا۔

اس دورے کے لیے نہ صرف امریکی صدر رچرڈ نکسن بلکہ خود ہنری کسنجر نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔ کسنجر نے بعد میں آنے والے سالوں میں بھی واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے اسلام آباد کے کردار کو بارہا سراہا ۔

امریکہ اور چین کے مابین تعلقات معمول پر لانے کے لیے کردار ادا کرتے وقت پاکستان اندرونی طور پر مخدوش صورتحال کا شکار تھا۔ یہ وہ وقت جب ملک میں انتخابات ہونے کے باوجود حکومت سازی تاخیر کا شکار تھی جبکہ مشرقی پاکستان میں شورش برپا تھی اور ملک کے دونوں حصوں سے بنگالی اور غیر بنگالی شہریوں کی ہجرت جاری تھی۔

ان حالات کے باوجود فوجی صدر یحیٰی خان کی حکومت نے اس وقت کے سیکرٹری خارجہ اور امریکہ میں پاکستانی سفیر کے ذریعے اس دورے کو خفیہ رکھنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ہنری کسنجر
ہنری کسنجر

اسی منصوبہ بندی کے تحت ہنری کسنجر کے دورے کو غیر اہم دکھانے کے لیے تاثر دیا گیا کہ وہ محض آرام کی غرض سے پاکستان کے پر فضاء سیاحتی مقام مری کے دورے پر آئے ہیں۔ بعد میں اس تاثر کی مضبوطی کے لیے ایک 'نقلی کسنجر‘ کی سربراہی میں ایک وفد کو حقیقت میں مری بجھوایا بھی گیا۔

ویتنام میں تباہ کن امریکی جنگ کو 'عزت کے ساتھ‘ ختم کرنے کے لیے نکسن کی کوششوں کی قیادت کرتے ہوئے، کسنجر نے ہنوئی میں ویتنامی باغیوں کی سپلائی لائنوں کو منقطع کرنے کی امید میں ہمسایہ ممالک کمبوڈیا اور لاؤس میں خفیہ طور پر بمباری کا حکم دیا۔

کچھ مؤرخین کا اندازہ ہے کہ بمباری کی ان مہمات میں لاکھوں شہری مارے گئے۔ کسنجر جنوری 1973ء میں پیرس میں مذاکرات کے ذریعے ویتنام میں جنگ بندی پر پہنچے اور انہیں متنازعہ طور پر نوبل امن انعام سے نوازا گیا، جسے ہنوئی کے لی ڈک تھو نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

اس کے علاوہ کسنجر پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کی امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ ثالثی کے عوض سابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کے خلاف مبینہ مظالم ڈھانے پر اسلام آباد کو سفارتی ڈھال فراہم کی۔

ہنری کسنجر
ہنری کسنجر

کسنجر پر سرد جنگ کے امریکی اتحادی انڈونیشیا کو مشرقی تیمور پر قبضہ کرنے کے لیے بھی مبینہ طور پر گرین لائٹ دی تھی جس کے بعد وہاں 24 سال تک تنازعہ رہا۔ کسنجر نے ترکی جانب سے قبرص کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کرنے کی مہم میں بھی خاموشی اختیار کی۔ اس کے ساتھ ساتھ کسنجر نےسابقہ سوویت یونین اور کیوبا کے اتحادیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے افریقی ملک انگولا کی خانہ جنگی میں خفیہ امریکی مداخلت کی بھی قیادت کی۔

کسنجر نے اپنا زیادہ وقت مشرق وسطیٰ کے لیے وقف رکھا اور 1973ء میں عرب ریاستوں کی طرف سے یوم کپور کی یہودی تعطیل پر اچانک حملے کے بعد ایک بڑے ہوائی جہاز کے ذریعے اپنے اتحادی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے آپریشن 'نکل گراس‘ کا اہتمام کیا۔ انہوں نے انتہائی سرعت کے ساتھ اسرائیل، مصر اور شام کے ساتھ سفارتی روابط رکھتے ہوئے 'شٹل ڈپلومیسی‘ متعارف کرائی۔

اس کے ساتھ ساتھ کسنجر نے مؤثر طریقے سے ماسکو کا کردار محدود کرتے ہوئے سب سے زیادہ آبادی والے عرب ملک مصر کے ساتھ تعلقات کو تبدیل کر دیا، جو اب امریکہ کا سکیورٹی پارٹنر اور واشنگٹن سے امداد وصول کرنے والا ملک بن گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں