امریکا کا الشباب کے جنگجوؤں کے ہتھیاروں اور سازوسامان پرفضائی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا نے صومالیہ میں افریقی یونین کے ایک فوجی اڈے کے قریب ایک فضائی حملہ کیا ہے اور اس میں الشباب کے زیرقبضہ چوری شدہ ہتھیاروں اور سازوسامان تباہ کر دیا ہے۔

صومالیہ کے دارالحکومت مقدیشو کے جنوب مغرب میں 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بولومارر میں واقع یوگنڈا کے فوجیوں کے اڈے پر جمعہ کے روز حملہ کیا گیا تھا۔اس کی ذمے داری القاعدہ سے وابستہ شدت پسند گروپ الشباب نے قبول کی تھی۔انھوں نے وہاں سے اسلحہ اور فوجی سازوسامان لوٹ لیا تھا۔

امریکی افریقی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے الشباب کے جنگجوؤں کے زیرقبضہ ہتھیاروں اور سازوسامان کو تباہ کر دیا ہے۔اس نے بولو مارر کے آس پاس عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پرفضائی حملہ کیا تھا۔

مقامی افراد اور صومالی فوج کے ایک کمانڈر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ الشباب کے عسکریت پسندوں نے دھماکا خیز مواد سے بھری ایک کار سے اڈے کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا تھا۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ الشباب کے حملے میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔امریکی افریقی کمان (اے ٹی ایم آئی ایس)کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازے کے مطابق اس کی جوابی کارروائی میں کوئی شہری زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

اے ٹی ایم آئی ایس کی حمایت یافتہ حکومت نواز افواج نے گذشتہ سال اگست میں الشباب کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔اس جنگجو گروپ نے 15 سال سے زیادہ عرصے سے افریقی ملک میں شورش برپا کر رکھی ہے۔

بیس ہزار کی نفری پرمشتمل اے ٹی ایم آئی ایس فورس اپنی پیش رو اے ایم آئی ایس او ایم کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ قوت رکھتی ہے۔یہ فورس یوگنڈا، برونڈی، جیبوتی، ایتھوپیا اور کینیا کے فوجیوں پر مشتمل ہے اور اس کے دستے جنوبی اور وسطی صومالیہ میں تعینات ہیں۔اس کا ہدف 2024 تک صومالیہ کی فوج اور پولیس کو سکیورٹی کی ذمہ داریاں سونپنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں