امریکا، یورپی یونین، نیٹو کی ترک صدر کو مبارکباد،'مل کر کام کرنے'کی خواہش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی صدر جو بائیڈن، نیٹو کے سیکرٹری جنرل، اور یورپی یونین کمیشن کے صدر نے اتوار کے روز ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی، اور "مل کر کام کرنے" کی امید کا اظہار کیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹویٹر پر کہا: "ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد۔ میں دوطرفہ مسائل اور مشترکہ عالمی چیلنجوں پر بطور نیٹو اتحادی ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا منتظر ہوں۔"

نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے ٹویٹ کیا: "صدر ایردوآن آپ کے دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد۔ میں مل کر کام جاری رکھنے اور جولائی میں نیٹو سربراہی اجلاس کی تیاری کا منتظر ہوں۔"

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا: "میں ایردوان کو انتخابات جیتنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں ، اور میں یورپی یونین-ترکی تعلقات کی تعمیر جاری رکھنے کی منتظر ہوں۔ یہ یورپی یونین اور ترکی دونوں کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے کہ وہ اپنے عوام کے فائدے کے لیے اس تعلق کو آگے بڑھانے پر کام کریں۔

رجب طیب ایردوآن نے اتوار کے روز تیسری مرتبہ صدارتی انتخاب جیت کر ایک بے مثال کارنامہ انجام دیا جس کے بعد ترکی کے صدر کے طور پر ان کا دور حکومت تیسری دہائی تک بڑھ گیا ہے۔

ان کی قیادت میں ملک کی امریکا، یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ ڈرامائی طور پر کشیدگی پیدا ہوئی۔ انہوں نے گذشتہ برسوں میں تیزی سے ایک زیادہ جارحانہ خارجہ پالیسیوں کا استعمال کیا جس کا مقصد اپنے خطے اور اس سے باہر ترکیہ کا اثر و رسوخ بڑھانا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ پابندیوں کا نشانہ بھی بنتے رہے۔

پچھلے ادوار میں یورپی یونین اور نیٹو کی جانب سے ان کی ملکی پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا اور انہیں جمہوری روایات نظر انداز کرنے، میڈیا سنسرشپ، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے الزامات کا سامنا بھی رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں