روس اور یوکرین

مطلوبہ تعداد میں فوجی نہیں، صدرپوتین کے خلاف بغاوت نہیں کررہا: ویگنر سربراہ

وزیردفاع شوئیگو کا خصوصی فورسز پرکنٹرول ہے، وہ روسی صدر کا تختہ الٹ سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کی آلہ کار ملیشیا ویگنر کے سربراہ یوفگینی پریگوژن نے صدرولادی میرپوتین کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ ان کی فوج کے پاس مطلوبہ تعداد کی کمی ہے۔البتہ انھوں نے وزیر دفاع سرگئی شوئیگوکی جانب اشارہ کیا ہے کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں اور وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ صدر پوتین کے اقتدار کا تختہ الٹ دیں۔

مشرقی یوکرین میں روس نواز فوج کے سابق کمانڈر ایگور گرکن نے ہفتے کے روز پریگوژن پر بغاوت کی سازش کا الزام عاید کیا تھا اور ویگنر کے سربراہ کی جانب سے مسلح افواج اور اعلیٰ دفاعی عہدے داروں کے خلاف توہین آمیز بیانات کو مجرمانہ قرار دیا تھا۔

یوکرین کے جنگی مواد کا ترجمہ کرنے والی ایک آزاد تنظیم ’وار ٹرانسلیٹڈ‘ کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق گرکن نے کہا:’’درحقیقت، اپنے بیانات کے ساتھ، پریگوژن نے بغاوت کی طرف ایک قدم بڑھایا ہے۔اگر پریگوژن ویگنر کا سربراہ رہے، تو بغاوت جلد اور بنیادی طور پر برپا ہوجائے گی‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’’بغاوت کا خطرہ واضح ہے۔بغاوت کی کوشش کا اعلان کیا گیا ہے۔اس کے بعد کیا ہوگا، مجھے نہیں معلوم، خاص طور پر جب ویگنر کو فوری طور پر پچھلے اڈوں پر واپس بلا لیا گیا ہے‘‘۔

تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ برائے مطالعات جنگ (آئی ایس ڈبلیو) نے پیر کے روز کہا تھا کہ ویگنر کے پاس بغاوت کرنے کے لیے اتنی بڑی تعداد نہیں ہے۔یہ ادارہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کی روزمرہ پیش رفت پر نظر رکھتا ہے۔

دوسری جانب ویگنر کے سربراہ نے صدرپوتین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کا بھی دعویٰ کیا۔ انھوں نے واضح طور پر اشارہ کیا کہ وہ شخص جو اچھی پوزیشن میں ہے اور بغاوت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،وہ وزیر دفاع تھا کیونکہ اس کے پاس روس کی خصوصی فورسز تک رسائی تھی۔

پریگوژن نے روسی اشرافیہ اور فوج کے اعلیٰ حکام کے خلاف عوامی سطح پر تنقید کی ہے۔اس وجہ سے انھیں خود بڑے پیمانے پر نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایک طرح سے انھوں نے بدنامی مول لی ہے۔انھوں نے بار بارخاص طور پر روسی وزیردفاع شوئیگو اور چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تجزیہ کاروں نے العربیہ کو بتایا کہ نمایاں عوامی پروفائل اور عالمی سطح پر مقبولیت کے باوجود، پریگوژن کا اصل اثر و رسوخ کم ہوتا جا رہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ان کی توجہ حاصل کرنے کی حرکتیں جاری ہیں ، لیکن صدرولادی میرپوتین کے اقتدار کے ڈھانچے میں اب بھی ان کے لیے جگہ موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں