چینی بحری جہاز کی تلاشی لے رہے، جنگ عظیم دوم کے ملبے کو لوٹنے کا شبہ ہے: ملائیشیا

بحری جہاز کے عملے سے پوچھ گچھ جاری، نہ پھٹنے والے گولوں کے خول ملے ہیں: کوسٹ گارڈ، مقامی حکام سے رابطے میں ہیں: چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ملائیشیا کے کوسٹ گارڈ نے منگل کو کہا کہ حکام دوسری جنگ عظیم کے دو برطانوی جہازوں کو لوٹنے کے شبہ میں قبضہ میں لیے گئے چینی بحری جہاز کے عملے سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ یہ بحری جہاز 19 مئی کو قبضہ میں لیا گیا تھا۔

جوہور ریاست میں ملائیشیا کی میری ٹائم انفورسمنٹ ایجنسی کے سربراہ نور الحزام زکریا نے بتایا کہ چینی رجسٹرڈ بحری جہاز پر سوار ہونے پر افسروں نے نہ پھٹنے والے توپ کے گولوں کے خول دریافت کیے۔ اس بحری جہاز ہفتے کے آخر میں غیر قانونی لنگر انداز ہونے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

نور الحزام نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہماری تفتیش اب اس طرف ہے کہ توپ کے یہ گولے کہاں سے آئے۔ مختلف ایجنسیوں کے افسران اب اس بڑے بحری جہاز کی تلاشی لے رہے ہیں۔

نورالحزام نے بتایا کہ فوزو شہر سے آنے والے جہاز میں 32 افراد کا عملہ تھا جس میں 21 چینی شہری، 10 بنگلہ دیشی اور ایک ملائیشین شامل تھا۔ ان میں سے کچھ پوچھ گچھ کے لیے کوسٹ گارڈ کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں دھماکہ خیز مواد کی دریافت بھی شامل ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ملائیشیا میں چینی سفارت خانہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

چینی حکام نے ملائیشیا سے کہا ہے کہ وہ اس کیس کو "منصفانہ اور قانون کے مطابق" نمٹائیں۔ بیجنگ نے ملائیشیا سے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے بھی کہا ہے۔

ملائیشیا کے ایک سینئر میری ٹائم عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھات کے ٹکڑے اور گولے دو برطانوی جنگی بحری جہازوں سے نکلے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے بحری جہاز ’’ ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز‘‘ اور ’’ ایچ ایم ایس ری پلس‘‘ پر اس وقت 800 برطانوی ملاح سوار تھے جب جاپانی طیاروں نے بحیرہ جنوبی چین میں ان کو نشانہ بنایا تھا۔ 10 دسمبر 1941 کو یہ حملہ جاپان کے ہوائی میں پرل ہاربر پر امریکی بحری بیڑے پر حملے کے تین دن بعد کیا گیا تھا۔

ملائیشیا کے ساحلی محافظوں کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیو میں کھردری دھات کے بڑے ٹکڑے اور گولے، اسی طرح جہاز پر سوار دھات کو کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک بڑی کرین اور گیس ٹارچز کو دکھایا گیا ہے۔

میری ٹائم ایجنسی نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ان گولوں کو جوہر میں دوسری جنگ عظیم کے دور کے نہ پھٹ سکنے والے ہتھیاروں کی دریافت سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ نورالحزام نے کہا کہ میری ٹائم ایجنسی ملائیشیا کے پانیوں میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی بچاؤ کی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گی۔ ایسی لوٹ مار ایک غیر مہذب فعل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں