کیا اپنے وزیر دفاع پر پابندی کی وجہ سے چین نے آسٹن سے ملنے سے انکار کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

رواں ہفتے سنگاپور میں ہونے والی دفاعی سربراہی کانفرنس ’’شنگری لا‘‘ ڈائیلاگ کے دوران امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور ان کے چینی ہم منصب لی شانگفو کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہو گی۔

اس بات کی تصدیق پیر کو امریکی محکمہ دفاع نے کی تھی۔ اس بات کی نشاندہی بجی کی گئی تھی کہ بیجنگ نے مئی کے اوائل میں سنگاپور میں دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کے درمیان ملاقات کے لیے دی گئی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان جنرل پیٹ رائڈر نے کہا ہے کہ بامعنی فوجی مذاکرات میں چین کی رضامندی کا فقدان پریشان کن ہے، تاہم اس سے محکمہ دفاع کے پیپلز لبریشن آرمی کے ساتھ رابطے کی لائنیں کھولنے کا عزم کمزور نہیں ہوگا۔ امریکی وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اس چینی انکار کو بہانوں کے سلسلے میں تازہ ترین بہانہ قرار دیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تائیوان سمیت کئی معاملات پر تناؤ ہے۔ تاہم اس تناؤ کے باوجود دونوں ملکوں کے حکام نے گزشتہ عرصے کے دوران ملاقات کی۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے مئی کے اوائل میں آسٹریا کے دارالحکومت میں چینی چیف خارجہ امور کے اہلکار وانگ یی سے ملاقات کی تھی۔ امریکی وزیر دفاع نے گزشتہ سال جون میں سنگاپور میں دفاعی سربراہی اجلاس کے دوران چین کے سابق وزیر دفاع وی فینگ سے بھی ملاقات کی تھی۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن: رائیٹرز
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن: رائیٹرز

تو شاید لی اور آسٹن کے درمیان ملاقات سے انکار کی وجہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ نے 2018 میں چینی وزیر دفاع پر روسی ہتھیاروں کی خریداری کی وجہ سے پابندیاں عائد کی تھیں۔ یاد رہے پینٹاگون نے پہلے کہا تھا کہ لی پر عائد پابندیاں آسٹن کو سزا یافتہ وزیر کے ساتھ سرکاری طور پر ڈیل کرنے سے نہیں روکتی ہیں۔

واضح رہے 2021 سے لے کر اب تک چین نے امریکی وزارت دفاع کی طرف سے دونوں قیادتوں کے درمیان رابطے کے لیے کی گئی 12 سے زیادہ درخواستوں کو مسترد کیا یا ان کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی اس سال اس وقت بڑھ گئی جب امریکہ نے چین پر اپنی سرزمین پر جاسوسی غبارہ اڑانے کا الزام لگایا اور پھر اسے مار گرایا تھا۔ واشنگٹن نے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایشیا میں اتحاد اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوشش بھی کی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہت جلد بہتر ہونے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں