آسٹریلیا میں بھارتی طلبہ پر پابندی؛نئی دہلی میں سفیرکی کنسلٹنٹس سے محتاط رہنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بھارت میں متعیّن آسٹریلیا کے سفیر نے طلبہ کو خبردارکیا ہے کہ وہ تعلیم اور امیگریشن کنسلٹنٹس سے محتاط رہیں۔بھارت میں یہ امیگریشن مشیران بیرون ملک تعلیم کے خواہاں طلبہ کی داخلے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کرتے پائے گئے ہیں۔

آسٹریلیا کی بعض یونیورسٹیوں نے مئی میں جعلی ویزا دستاویزات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر چھے بھارتی ریاستوں کے درخواست دہندگان پر پابندی عاید کردی تھی۔

نئی دہلی میں آسٹریلوی سفیر بیری او فیرل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم جو دیکھ رہے ہیں، وہ مائیگریشن ایجنٹس کی ناکامی ہے جو طلبہ کو ان کے فارم درست طریقے سے مکمل نہ کر کے مایوس کر رہے ہیں۔ ہم نے جھوٹی معلومات اور دھوکا دہی پرمبنی درخواستوں میں اضافہ دیکھا ہے اور اس کا بعض آسٹریلوی یونیورسٹیوں نے امیگریشن ایجنٹوں کو ذمے دار ٹھہرایا ہے‘‘۔

او فیرل نے تعلیم کے لیے آسٹریلیا جانے کے خواہش مند طلبہ پر زور دیا کہ وہ ایجنسی کی کاغذی کارروائی کی نگرانی کریں اور یقین دہانی کے لیے نقول فائل کریں۔

وکٹوریا کی فیڈریشن یونیورسٹی اور نیو ساؤتھ ویلز کی ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی نے بھارت کی ریاست پنجاب، ہریانہ، گجرات، اتراکھنڈ، اتر پردیش اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے طالب علموں کے داخلے پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔

19مئی کو ایجنٹوں کو دیے گئے ایک بیان میں فیڈریشن یونیورسٹی نے کہا:’’جامعہ نے دیکھا ہے کہ محکمہ داخلہ کی طرف سے کچھ ہندوستانی علاقوں سے ویزا درخواستوں کو مسترد کرنے کے تناسب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں امید تھی کہ یہ ایک قلیل مدتی مسئلہ ثابت ہوگا ، لیکن یہ برقرار ہے ، اور اب یہ واضح ہے کہ ایک رجحان ابھر رہا ہے۔ہمارا اندازہ ہے کہ شمالی ہندوستان کے کچھ علاقوں سے انکار کی شرح مستقبل قریب میں کم ہونے کا امکان نہیں ہے‘‘۔

جامعہ نے مزید کہا کہ ’’ہم نے ان علاقوں کے لیے درخواستوں پر کارروائی روکنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ درخواست دہندہ کو ویزا ملنے سے انکار ہوسکتا ہے اور یہ اس کے مستقبل میں پڑھائی کے ارادوں کو نمایاں طور پر متاثر کرسکتا ہے‘‘۔

ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی نے مبیّنہ طور پر کہا ہے کہ پنجاب، ہریانہ اور گجرات کے طالب علموں میں سب سے زیادہ ملازمت چھوڑنے کا اندیشہ ہے اور وہ اب ان ریاستوں سے درخواستوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکٹوریہ یونیورسٹی، ایڈتھ کووان یونیورسٹی، وولن گونگ یونیورسٹی، ٹورنس یونیورسٹی اور سدرن کراس یونیورسٹی ان ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی طلبہ پر پہلے ہی پابندیاں اور چیک لگانے کے عمل میں ہیں۔

آسٹریلوی جامعات نے یہ پابندی وزیر اعظم انتھونی البانیز کی مئی میں سڈنی میں اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات کے چند روز بعد عاید کی ہے۔اس ملاقات میں علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور بھارتی طلبہ کے آسٹریلیا کے سفر کوآسان بنانے کے لیے تارکین وطن کے معاہدے پر دست خط کیے گئے تھے۔

البانیز نے اس سے قبل ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ ’’لاکھوں ہندوستانی طلبہ یہاں آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں‘‘۔اس کے بارے میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ آسٹریلیا کی معیشت کے لیے اچھا ہے۔

مارچ میں دونوں ممالک نے ایک ایسے طریق کار پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ کی ڈگریوں کو ان کے آبائی وطن میں تسلیم کرنے کی اجازت دی جائے گی۔نقل مکانی میں بڑھتی ہوئی مشکلات کے باوجود، زیادہ سے زیادہ بھارتی امیر بہتر معیار زندگی اور معاش کی تلاش میں بیرون ملک جانے کا انتخاب کر رہے ہیں۔

متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بھارتی گذشتہ کئی دہائیوں سے دوسرے ممالک میں بہتر امکانات کی تلاش میں ہیں۔ اس کے باوجود ابتر معاشی حالات اب غریب دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو بیرون ملک نقل مکانی کرنے کے لیے سرمایہ کاری کرنے پر مجبور کر رہے ہیں اور وہ کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں تعلیم حاصل کرنے اور رہنے کے ابتدائی بھاری اخراجات کو تیار ہیں۔

کینیڈا نے مارچ میں جعل سازی کے اسی طرح کے ایک واقعے میں، 700 طالب علموں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔حکام نے کالجوں میں داخلہ کے لیے جعلی خطوط کی نشان دہی کی تھی۔ یہ ملک میں تعلیم حاصل کرنے اور رہنے کے لیے استعمال کیے جارہے تھے۔

کینیڈین حکومت کے کچھ عہدے داروں نے متاثرہ طالب علموں کی حمایت میں خطوط لکھے ہیں، جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جرمانے کو ختم کیا جائے۔ وفاقی امیگریشن کے وزیر شان فریزر نے کہا کہ ’’حکام جعلی قبولیت کے خطوط کی حالیہ رپورٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں اورمحکمہ مجرموں کی نشان دہی کرے گا، متاثرین کو سزا نہیں دے گا‘‘۔

بھارت کی وزارت داخلہ کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات کےمطابق 2021 میں کل 163,370 ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کی تھی۔اعداد و شمار سے پتاچلتا ہے کہ ہندوستانی شہریت ترک کرنے کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں امریکا سے آئی ہیں جن کی تعداد 78،284 ہے ، اس کے بعد آسٹریلیا سے 23،533 اور کینیڈا سے 21،597 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں