اجتماعی زیادتی کے ملزموں کو صرف سال قید کی سزا، مراکش میں ہنگامہ برپا

2021 میں 15 سالہ لڑکی سے فٹبال ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ اور 5 افراد نے عصمت دری کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مراکش کے جنوب مشرقی شہر طاطا میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ زیادتی کے مرتکب 6 اوباشوں کو صرف ایک سال قید کی سزا سنائے جانے والے عدالتی فیصلے نے ہنگامہ برپا کردیا ہے۔ مراکش میں فوجداری قانون کے مقدمات کے کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر وسیع بحث شروع ہوگئی ہے۔

یہ معاملہ سال 2021 کا ہے جب طاطا کے ایک قصبے میں ایک 15 سالہ لڑکی کو اس کی فٹ بال ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ اور 5 دیگر افراد نے بار بار زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی اور 8 ماہ کی بچی تھی۔ عدالت نے درندہ صفت ملزموں کو بغیر تشدد کے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ غیر اخلاقی حملہ کرنے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی۔

اس عدالتی فیصلے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا، اغادیر شہر میں اپیل کورٹ کے التوا کے ساتھ مل کر بدھ کو ان ملزموں کے کیس کی سماعت 12 جون تک ملتوی کردی گئی۔ ملزمان اپنی سزا پوری کرنے کے بعد جیل چھوڑ گئے ہیں۔

متاثرہ بچی کے خاندان اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سزا کو غیر منصفانہقرار دیا اور کم سن بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی حوصلہ افزائی کے مترادف قرار دیا اور ملزموں کو سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی تناظر میں 21 انجنوں کے اتحاد پر مبنی "خواتین یکجہتی نیٹ ورک" نے ایک بیان میں "معمولی سزا" کی مذمت کی۔ اور کہا کہ اس سزا نے بچے کی عصمت دری کرنے والوں کو ملک چھوڑنے کے قابل بنا دیا ہے۔ اپیل سیشن میں اس کوتاہی کا ازالہ کرنے اور سزاؤں میں مزید شدت لانے کا مطالبہ کیا گیا۔

نیٹ ورک نے کہا کہ یہ نرم سزا لڑکی کے ساتھ مکمل طور پر انصاف نہیں کرتی اور بچے کے ساتھ کیے گئے گھناؤنے جرم سے مطابقت نہیں رکھتی ہے۔ نیٹ ورک نے واضح کیا کہ مراکش میں ایک نابالغ کی عصمت دری کے جرم میں فوجداری قانون کے تحت 10 سے 20 سال قید کی سزا ہے۔ بچی کو بکارت زائل کرنے کی صورت میں یہ سزا 20 سے 30 سال قید تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ فیصلہ بچوں سے زیادتی کی روک تھام کے حوالے سے اپنا کردار کھو چکا ہے۔ یہ سزا جرم کی بربریت کے مطابق نہیں اور بچوں سے زیادتی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ دوسری طرف اس سے لڑکیوں اور خواتین کو مزید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ خواتین تحفظ کے احساس سے محروم ہوجائیں گی۔

واضح رہے چند ہفتے قبل اسی طرح کے ایک واقعے نے مراکش کی رائے عامہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا تھا۔ اس فیصلے میں بھی نابالغ لڑکی کے ساتھ اجمتاعی زیادتی کرنے والے 3 افراد کو صرف 2 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں