طیارہ واقعہ کے بعد بلنکن کا چین سے رابطہ چینلز کھلے رکھنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بدھ کے روز بیجنگ سے مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ ہفتے ہوا بازی کے ایک واقعے کے بعد مزید رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کرے۔ انہوں نے اس واقعہ میں ایک چینی پائلٹ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

بلنکن نے سویڈن کے دورے کے دوران گفتگو میں کہا میرے خیال میں یہ صرف ہمارے دونوں ممالک کے لیے اہم ہے کہ

وزرائے دفاع سمیت باقاعدہ رابطے کھلے رہیں۔

بلنکن نے یہ مطالبہ اس حوالے سے کیا ہے کہ امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ چین نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ بات چیت کرنے سے گریز کیا ہے۔

چینی حکومت نے بدھ کے روز اس بات کی مذمت کی اور کہا کہ ایک چینی لڑاکا طیارے اور امریکی فوجی جاسوس طیارے کے درمیان ہونے والے واقعے میں امریکی جاسوس طیارے کے بحیرہ جنوبی چین کے اوپر سے پرواز ایک اشتعال انگیزی تھی۔ یہ پرواز اس وقت کی گئی جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ بھی ہیں۔

چینی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ایک امریکی جاسوس طیارہ جو گزشتہ ہفتے بحیرہ جنوبی چین پر تصادم میں ملوث تھا نے فوجی تربیتی علاقے میں "دراندازی" کی تھی۔ چینی فوج کے ترجمان ژانگ نانڈونگ نے کہا کہ امریکی جاسوس طیارہ ’’ آر سی ۔ 135 ‘‘ جان بوجھ کر ہمارے تربیتی علاقے میں داخل ہوا تھا تاکہ جاسوسی اور مداخلت کی جا سکے۔ چین نے ایک بیان میں کہا کہ چین نے قوانین اور ضوابط کے مطابق امریکی طیارے کو ٹریک کرنے اور اس کی نگرانی کے لیے ایک طیارہ بھیجا تھا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ امریکہ کو فوری طور پر ان خطرناک اشتعال انگیزیوں کو روکنا چاہیے۔

واضح رہے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات پہلے ہی تائیوان اور 2022 کے آخر میں امریکہ کے اوپر چین کے غبارے کی پرواز جیسے معاملات پر بہت کشیدہ ہیں۔ اس تازہ ترین واقعے کی اطلاع پینٹاگون کے اعلان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ نے اس ہفتے سنگاپور میں دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع لائیڈ آسٹن اور لی شانگفو کے درمیان ملاقات کے لیے امریکی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں