ارب پتی تاجروں کی چین کی در پر دستک، لوئی وٹان کے برنارڈ آرنلٹ کا متوقع دورہ چین

ایلون مسک نے برنارڈ آرنلٹ سے دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

رواں ہفتے چین کے دورے کے بعد کئی ارب پتیوں کی کمپنیوں کے اسٹاک میں اضافہ ہوا اور قسمت ان پہ مہربان ہوگئی ہے۔

ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے دنیا کے امیر ترین شخص ہونے کا خطاب فرانسیسی ارب پتی ایل وی ایم ایچ لوئی وٹان موئت ہینیسے کے چیف ایگزیکٹو برنارڈ آرنلٹ سے دوبارہ واپس حاصل کر لیا ، جبکہ جے پی مورگن کے سی ای او جیمی ڈیمن نے تو یہ تک کہا کہ وہ چین کے دورے کے دوران اپنے ملک کی خدمت کے لیے کوئی سرکاری عہدے حاصل کر سکتے ہیں۔

بلومبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ اپنی پرتعیش اشیاء کی کمپنی ایل وی ایم ایچ کے حصص میں تلخ گراوٹ اور دنیا کے امیر ترین کا خطاب کھونے کے بعد اب آرنالٹ بھی چین کی در پر دستک دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بلومبرگ ذرائع نے بتایا کہ ارب پتی آرنلٹ کا یہ دورہ کووڈ کے بعد پہلا ہو گا، انہوں نے مزید کہا کہ غیر متوقع حالات کی وجہ سے یہ دورہ ملتوی کیا جا سکتا ہے۔

یہ دورہ چین کی معاشی بحالی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے وقت میں سامنے آرہا ہے، جو گزشتہ ماہ سے سست رفتار تھی، اور اس سال کے شروع میں لوئس ووٹن سے لے کر ہرمیس انٹرنیشنل تک بعض عالمی پرتعیش سامان بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں بھی واضح کمی ہوئی ہے۔

بدھ کے روز، برنارڈ آرنلٹ نے دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز کھو دیا، جب پیرس میں قائم ان کی لگژری ایمپائر ایل وی ایم ایچ لوئی وٹان موئت ہینیسے کے حصص گر گئے۔ تاہم، چین کے دورے کی منصوبہ بندی اس سے پہلے شروع کر دی گئی تھی۔

بیجنگ جےپی مورگن کے جیمی ڈیمن اور مسک جیسے عالمی کاروباری رہنماؤں کے لیے سرخ قالین بچھا رہا ہے - اس کا مقصد اس تاثر کو دور کرنا ہے کہ ملک غیر ملکی سرمائے کا زیادہ مخالف ہوتا جا رہا ہے اور مغربی ممالک کے چین پر کم انحصار کے سیاسی ایجنڈے کا مقابلہ کرنا ہے۔

جبکہ بڑے برانڈز نوجوان چینیوں کو راغب کرنے کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں، کیونکہ زیادہ خرچ کرنے والے جنریشن زی سے توقع ہے کہ وہ 2025 تک ، امریکہ اور یورپ کو پیچھے چھوڑ کر اس خطے کو دنیا کی سب سے بڑی لگژری مارکیٹ بنا دے گی-

واضح رہے کہ گذشتہ سال ایل وی ایم ایچ کی 79.2 بلین یورو (84.8 بلین ڈالر) کی آمدنی کا 30% حصہ جاپان کو چھوڑ کر ایشیا کا تھا۔

آرنلٹ کے کاروباری حریف، کرینگ کے سی ای او فرانسو ہنری پینو، اور گوچی کے مالک نے بھی اس سال کے شروع میں چین کا دورہ کیا تھا۔
برنارڈ آرنلٹ نے اپریل میں پیرس میں چینی وزیر تجارت وانگ وینٹاؤ سے ملاقات کی تھی۔ وزارت تجارت کے ایک ٹویٹ کے مطابق، وانگ نے ہرمیس کے سی ای او ایکسل ڈوماس سمیت دیگر فرانسیسی کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں