مصر میں آل البیت مساجد کو گرانے کا تنازع، حکومت نے حقیقت بتا دی

آثار قدیمہ اور تاریخی مقبرے کو کسی بھی طرح منہدم نہیں کیا جا سکتا: وزارت سیاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر میں ذرائغ ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی جانب سے ایسی ویڈیوز شیئر کی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت سرمایہ کاری کے منصوبوں کے نام پر آل بیت مساجد کو مسمار کرنے کے ایک جامع منصوبے پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وزراء کی کونسل کے میڈیا سنٹر نے اس حوالے سے وزارت اوقاف سے رابطہ کیا تو اس نے ان خبروں کی واضح طور پر تردید کردی ہے۔ وزارت اوقاف نے زور دیا ہے کہ یہ بات سچ نہیں ہے کہ حکومت سرمایہ کاری کے منصوبوں کے فائدے کے لیے "آل بیت " مساجد میں سے کسی کو منہدم کرنا چاہتی ہے۔

وزارا کونسل کے میڈیا سنٹر نے انکشاف کیا ہے کہ ویڈیو میں پھیلائی گئی معلومات غلط ہیں اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میڈیا سنٹر نے کہا کہ تمام آل بیت مساجد اپنی مذہبی، تاریخی اور وراثتی قدر کی وجہ سے کسی بھی نقصان کے بغیر موجود ہیں۔ اس حوالے سے کسی بھی مسجد کی عمارت کو تعصب کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ریاست آل البیت مساجد کی ترقی اور بحالی کے لیے ایک مربوط منصوبے پر عمل درآمد میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ ایسا منصوبہ ہو جو ان کی تاریخی اور روحانی کردار سے ہم آہنگ ہو گا۔ جامع مسجد کے متوازی طور پر ان مساجد کے اطراف بھی خدمات اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان مساجد کی طرف جانے والے داخلی راستوں، سڑکوں اور صحن کو بہتر بنایا جائے گا۔

وزراء کی کونسل نے تصدیق کی کہ قاہرہ کے جنوبی محلوں میں آل البیت مساجد کی سیر کو بہتر بنانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو سیدہ زینب مسجد سے شروع ہو کر سیدہ عائشہ مسجد پر ختم ہوتا ہے۔

مصر میں مسجد البیت
مصر میں مسجد البیت

کونسل نے واضح کیا کہ اس منصوبے میں آل البیت راستے کی کارکردگی اور ترقی کو بڑھانے کے منصوبے پر عمل درآمد بھی شامل ہے۔ اس راستے کی لمبائی لگ بھگ 2 کلومیٹر ہوگی۔ اس منصوبے میں متعدد مقامات موجود ہیں۔ جن میں سیدہ زینب مسجد، سلار اور سنجر کا مزار، احمد ابن طولون مسجد، جابر اینڈرسن میوزیم، سکینہ پاشا ہاؤس، سیدہ سکینہ مسجد، مزار محمد الانور، گنبد شجرۃ الدر، عاتکہ و جعفری کا گنبد، سیدہ رقیہ مسجد، فاطمہ خاتون کا گنبد، الاشرف خلیل گنبد، خلیفہ پارک پارک اور سیدہ نفیسہ مسجد شامل ہیں۔

اس منصوبے میں کئی سڑکیں جیسے پورٹ سعید سٹریٹ، عبدالمجید اللبان سٹریٹ، الاشراف سٹریٹ اور خلیفہ سٹریٹ بھی شامل ہیں۔ چند روز قبل بھی مصری حکومت نے سرکاری طور پر ان باتوں کی تردید کی تھی جو سوشل میڈیا پر قدیم مقبروں کے انہدام یا ان کی مخصوص آرکیٹیکچرل شکلوں اور سجاوٹ کے بارے میں گردش کر رہی تھیں۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے بیٹے علاء مبارک کی ایک پوسٹ میں بھی حکومت کی جانب سے آثار قدیمہ اور تاریخی مقبروں کو مسمار کرنے کے لیے ایک جامع مہم کے نفاذ کا الزام لگایا گیا تھا۔ تاہم مرکز نے ان رپورٹوں کی تردید کردی۔ مرکز نے کہا کہ تمام قدیم قبرستان ایسے ہی موجود ہیں جیسے وہ پہلے تھے۔ انہیں چھوا تک نہیں جا سکتا کیونکہ وہ 1983 کے نوادرات کے تحفظ کے قانون نمبر 117 کے تابع ہیں۔ یہ قانون نوادرات کو نقصان پہنچانے والے عمل کو جرم قرار دیتا ہے۔

وزارت سیاحت اور نوادرات کے ایک سرکاری ذریعے نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو تصدیق کی ہے کہ آثار قدیمہ اور تاریخی مقبرے کو کسی بھی طرح منہدم نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے جو کچھ کہا جارہا ہے وہ سراسر غلط ہے۔ ذریعہ نے مزید کہا کہ سپریم کونسل آف نوادرات کا اسلامی نوادرات کا سیکٹر وزارت اوقاف کے تعاون سے ہر اس قبرستان کا معائنہ کر رہا ہے جس پر آثار قدیمہ کا شبہ ہے۔

واضح رہے الاخوان المسلمون سے وابستہ ویب سائٹس اور نجی اکاؤنٹس پر متعدد ٹویٹس اور پوسٹوں نے ایسی معلومات پھیلائی تھیں کہ حکومت ایک پل اور صلاح سلیم روڈ کی تعمیر کے لیے تاریخی اور آثار قدیمہ کے قبرستانوں کو منہدم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں