مصر میں حج کے لیے قرض کی پیشکش کے بعد حلال وحرام کی نئی بحث چھڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

انتہائی حیرانی کے ساتھ ساٹھ سالہ عبدالفتاح سلامہ کو یہ خبر ملی کہ مصر کے متعدد بینکوں نے حج اور عمرہ کے مناسک ادا کرنے کے خواہشمندوں کو قرض دینے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم عبدالفتاح سلامہ کا ماننا ہے کہ قرض پر بیت اللہ کی زیارت کا خواب پورا نہیں ہوگا کیوںکہ قرض کی اس رقم میں "سود" شامل ہے۔ میں جانا نہیں چاہتا اور میں مشکوک پیسوں سےحج کا فریضہ ادا نہیں کرسکتا۔

چند لفظوں میں بزرگ نے مصریوں کی حالیہ دنوں کے دوران پیش آنے والے تنازعہ کی کیفیت کا خلاصہ بیان کردیا ہے۔ اس معاملے پر اس وقت مصرمیں عوامی اور مذہبی حلقوں میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ مذہبی اسکالرز کی طرف سے قرض پر حج کی ممانعت بیان کرتے ہیں تاہم بعض نے اس کے جواز میں بھی دلائل دیے ہیں۔ جب کہ معاشی تجزیہ کاروں کے پاس صرف اعدادو شمار کا گورکھ دھندہ ہی ہوتا ہے۔ مصری حکومت کے عہدیداروں کا خیال ہے کہ مہنگائی کے دور میں قرض پر حج یا عمرہ کے لیے قرض معاشی دباؤ کو کم کرسکتا ہے۔

اشتہار تنازع کا باعث

مصر کے متعدد بینکوں خاص طور پر "مصر"، "دی یونائیٹڈ بینک" اور "فیصل اسلامک بینک آف مصر" نے حج یا عمرہ کے مناسک ادا کرنے کے خواہشمندوں کو 17 فیصد سالانہ کی شرح سود پر بینک قرض کی پیشکش کی۔ انہیں یہ رقم 10 سال کی مدت میں واپس کرنا ہوگی۔

تینوں بینکوں کے اعلان نے مصری معاشرے میں تنازع کو جنم دیا۔ یہ تنازع سوشل میڈیا پر مزید بحث کی شکل اختیار کرگیا ہے۔

اگرچہ بعض لوگوں نے بنکوں کی اس آفر کا خیر مقدم کیا ہے مگر زیادہ تر لوگ اس کو حج اور عمرہ کی مقدس عبادت کی روح کے منافی سمجھتے ہیں۔43 سالہ محمد فاروق ایک سرکاری ملازم ہیں مگران کا کہنا ہے کہ بنکوں سے سود پر قرض لے کرحج یا عمرہ کرنا خلاف منطق ہے۔ یہ عبادت ہے اور عبادت کے لیے ہمیں اپنی حلال کی کمائی میں سے پیسہ خرچ کرنا چاہیے۔ بنکوں سےقرض لے کرحج کرنا مناسب نہیں۔

باسٹھ سالہ عبدالفتاح سلامہ ایک ریٹائرڈ ملازم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حج کے لیے قرضوں کا اعلان کرنا ایک "غیر معقول" مظہر ہے جس کا مصری اس وقت تجربہ کر رہے ہیں۔ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں۔"

مہنگائی اور پاؤنڈ کی گراوٹ

اقتصادی امور کے ماہر شریف الدمرداش کا خیال ہے کہ مصر جن حالات سے گذر رہا ہے اس کے علاوہ مناسک حج اور عمرہ کے بھاری اخراجات ، دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں مصری پاؤنڈ کی قدر میں نمایاں کمی " حج اور عمرہ کے قرضوں کے لیے ان بنکوں کی پیشکشوں کی اصل وجہ ہے"۔

الدمرداش نے "انڈی پینڈنٹ عربیہ" کے ساتھ اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ "زیادہ قیمتوں نے مصریوں کے ایک بڑے طبقے کو فرض حج ادا کرنے سے روک دیا ہے اور ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ معروف قدیم طریقوں، جیسے کہ مالیاتی طریقوں کے بعد قرض لے لیں۔

انہوں نے توجہ دلائی کہ مصری بنکوں کے خوردہ شعبے اس ضرورت سے واقف تھے اور انہوں نے فوری طور پر حج اور عمرہ کے لیے قرضے فراہم کرکے اسے پورا کرنے کی کوشش کی۔

مصر کے مرکزی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مارچ کے دوران افراط زر کی شرح تقریباً 40.26 فیصد ریکارڈ کی گئی، جب کہ مصری پاؤنڈ 2022 کے دوران اپنی قدر کا 50 فیصد سے زیادہ کھو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں