اوپیک پلس ممالک کل تیل کی پیداوار مزید کم کرنے پر تبادلہ خیال کرینگے: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اوپیک اور اس کے اتحادی تیل کی پیداوار میں کمی کو مزید کم کرکے ممکنہ طور پر 10 لاکھ بیرل یومیہ تک لانے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ تین ذرائع نے جمعہ کو رائٹرز کو بتایا کہ تیل کی قیمتیں 70 ڈالر فی بیرل تک گر گئی ہیں اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے سپلائی میں ایک نئی کمی کی بات کی۔

اوپیک پلس پیٹرولیم برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اور روس کی قیادت میں اتحادیوں کا گروپ ہے۔ یہ گروپ دنیا کے تقریباً 40 فیصد خام تیل فراہم کرتا ہے اور اس کے پالیسی فیصلے تیل کی قیمتوں پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں۔

اوپیک پلس کے تین ذرائع نے بتایا اتوار کو اوپیک کے وزرا ویانا میں دوپہر 2 بجے یا 1200 جی ایم ٹی پر جمع ہوں گے ۔

ذرائع نے بتایا کہ کٹوتیاں 2 ملین بیرلز فی یوم کی موجودہ کٹوتیوں اور 1.6 ملین بی پی ڈی کی رضاکارانہ کٹوتیوں سے بڑھ کر ایک ملین بیرلز فی یوم تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔

اگر فیصلہ کو منظور کرلیا جاتا ہے تو تیل کی پیداوار میں کل کٹوتی کا حجم 4.66 ملین بیرلز فی یوم ہو جائے گا۔ اس طرح یہ کٹوتیاں عالمی طلب کی تقریبا 4.5 فیصد تک پہنچ جائیں گی۔ قبل ازیں اوپیک پلیس کے دو ذرائع نے کہا تھا کہ انہیں امید نہیں تھی کہ گروپ مزید کٹوتیوں پر راضی ہوگا۔

واضح رہے مغربی ملکوں نے اوپیک پلیس پر تیل کی قیمتوں میں ہیرا پھیری اور توانائی کی بلند قیمتوں کے ذریعے عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ اوپیک کے حکام اور اندرونی ذرائع نے کہا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران مغرب کی کرنسی پرنٹنگ نے افراط زر کو ہوا دی ہے اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں کو اپنی اہم برآمدات کی قدر کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرنے پر مجبور کیا ہے۔

عراق کے وزیر تیل حیان عبدالغنی نے ویانا پہنچنے پر کہا کہ ہم تیل کی عالمی منڈی میں مزید توازن اور استحکام حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی فیصلہ کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

اپریل میں پیداوار کے حیران کن اعلان نے تیل کی قیمتوں کو تقریباً 9 ڈالر فی بیرل بڑھا دیا تھا اور قیمتیں 87 ڈالر سے اوپر لے جانے میں تعاون کیا تھا۔ لیکن عالمی اقتصادی ترقی اور طلب کے خدشات کے دباؤ میں وہ تیزی سے پیچھے ہٹ گئے۔ جمعہ کو بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ نے 76 ڈالر پر ٹریڈ کیا جاتا رہا۔

گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز نے کہا تھا کہ جو سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں کمی کر رہے ہیں انہیں "دھیان رکھنا چاہیے"۔ ان کے اس بیان کو مارکیٹ کے بہت سے مبصرین نے سپلائی میں مزید کمی کے انتباہ سے تعبیر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size