ایران میں قیدی تبادلے میں رہائی کے بعد تین یورپی باشندے اپنے ممالک کولوٹ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران میں قیدیوں کے تبادلے کے تحت رہا کیے گئے تین یورپی باشندے ہفتے کے روز اپنے ممالک کو لوٹ گئے ہیں۔تہران نے کہا ہے کہ اگر غیر ملکی سکیورٹی اداروں کی جانب سے ان کا 'استحصال' نہیں کیا جاتاتوان یورپی باشندوں کو گرفتار کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

ان تینوں افراد میں دو آسٹریا اور ایران کی دُہری شہریت کے حامل ہیں اور ایک ڈینش شہری ہے۔انھیں تہران نے ایرانی سفارت کار اسد اللہ اسدی کے بدلے میں جمعہ کے روز رہا کیا تھا۔اسی تبادلے کے تحت ایران نے گذشتہ ہفتے بیلجیئم کے امدادی کارکن اولیور وینڈیکاسیل کو رہا کیا تھا۔

اسدی کو 2021 میں بیلجیئم میں فرانس میں بم دھماکے کی ناکام منصوبہ بندی کے الزام میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا اوراس کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے سفارت کار کے خلاف لگائے گئے الزامات من گھڑت ہیں۔

خلیجی سلطنت عمان میں قیام اور طبی معائنے کے بعد تینوں یورپی باشندوں کو بیلجیئم کے میلسبروک فوجی ہوائی اڈے پر لے جایا گیا ہے۔بیلجیئم کی خبر رساں ایجنسی بیلجا کے مطابق وہ مقامی وقت کے مطابق رات 2 بج کر 45 منٹ پر پہنچے جہاں بیلجیئم کی وزیر خارجہ حجہ لحبيب نے ان کا استقبال کیا۔

ڈنمارک کے شہری تھامس جیمز ہفتے کی صبح 11 بجے کوپن ہیگن پہنچے۔آسٹریا کے وزیرخارجہ الیگزینڈر شیلنبرگ نے آسٹریا کے دونوں شہریوں کی ویانا میں آمد کی تصاویر ٹویٹ کی ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ایک تویٹ میں کہا ہے کہ ’’انھیں امید ہے کہ قیدیوں کی رہائی سے بیلجیئم اور یورپ کے ساتھ ایران کے تعلقات کا ایک نیا صفحہ کھل جائے گا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اگر غیر ملکی سکیورٹی اداروں کی جانب سے کچھ یورپی شہریوں کا استحصال نہیں کیا جاتا تو انھیں حراست میں لینے کی کوئی جواز نہیں تھا۔

جاسوسی کے الزامات

آسٹریا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کے شہری مسعود مصحب اور کامران غدیری کو بالترتیب 1586 اور 2709 دن کے بعد رہا کیا گیا ہے۔

بیلجیئم کی حکومت نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ یہ دونوں افراد دُہری شہریت کے حامل ہیں اور انھیں ایران میں 'غلط طریقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جنوری 2016 اور جنوری 2019 میں ایران میں خواتین کے حقوق کے مظاہروں کے سلسلے میں ان دونوں کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

مسعود مصحب ایرانی آسٹریا فرینڈشپ سوسائٹی کے شریک چیئرمین ہیں اور انھیں جاسوسی کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ غدیری ایک تاجر ہیں۔انھیں بھی جاسوسی کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ڈینش شہری کے بارے میں مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ "خوش ہیں کہ ڈنمارک کا ایک شہری ایران میں قید رہنے کے بعد اب اپنے اہل خانہ کے پاس واپس گھر جا رہا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کے اعلیٰ عہدہ دار کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تینوں افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا گیا ہے۔

خلیجی عرب ملک عمان نے بھی ان قیدیوں کو رہا کرانے میں مدد کی۔اس کے ایران اور مغربی ممالک دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور وہ اس سے پہلے بھی ثالث کا کردار ادا کر چکا ہے۔

بیلجیئم کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری طور پر اب بھی ایرانی جیلوں میں 22 یورپی شہری موجود ہیں لیکن مزید یورپی شہریوں کو اسدی کے بدلے میں رہا نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بیلجیئم سویڈش ایرانی شہری احمد رضا جلالی کی رہائی کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ برسلز یونیورسٹی میں مہمان لیکچر تھے اور انھیں 2016 میں ایران کے تعلیمی دورے کے موقع پرگرفتار کیا گیا تھا۔

ایران نے حالیہ برسوں میں درجنوں غیر ملکیوں اور دُہری شہریت کے حامل افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان میں سے زیادہ تر جاسوسی اور سکیورٹی سے متعلق الزامات پرزیرحراست ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان گرفتاریوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ ایران ایسے الزامات عاید کرکے بیرون ملک سے رعایتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں