حیران کن: شہد کی قاتل مکھیاں بزرگ کو تین گھنٹے ڈنک مارتی رہیں، پھر کیا ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہم میں سے کوئی بھی شہد کی مکھیوں کے ڈنک کا نشانہ نہیں بننا چاہتا۔ آپ یہ جان کر حیران ہو جائیں گے کہ شہد کی مکھیوں کا ایک غول ایک بزرگ شخص پر حملہ آور ہو اور مسلسل تین گھنٹے اسے کاٹتا رہا۔

جی ہاں ! ایسا ہو چکا ہے۔ تین گھنٹے شہد کی مکھیوں کے ڈنک سہنے والا شخص اس وقت ہسپتال میں ہے۔ شہد کی ان مکھیوں نے معمر امریکی کے جسم میں 200 بار ڈنک مارا۔

امریکی میڈیا کے مطابق 81 سالہ امریکی شخص کارل اموس کو کولہے میں فریکچر ہونے کے ساتھ ساتھ پورے جسم میں 200 ڈنک بھی آئے۔

شہد کی مکھیوں کے جھنڈ نے جسے "قاتل مکھی" کہا جاتا ہے، نے اوکلاہوما میں کارل اموس پر حملہ کیا۔

زخمی شخص نے بتایا کہ شہد کی مکھیوں نے اسے ہر جگہ ڈنک مارا۔ وہ میرے بالوں میں گھس گئیں ، میرے کانوں اور ناک میں داخل ہوئیں اور میں نے اس وقت اپنا منہ بند رکھنے کا عزم کیا تاکہ اس میں گھس نہ جائے۔"

اس نے مزید کہا کہ اس نے کچھ شہد کی مکھیوں کو مارنے کی کوشش کی۔ انہیں بھگانے کے لیے ہاتھوں کا استعمال کیا مگر یہ کوشش ناکام رہی۔

اس نے شہد کی مکھیوں کے غول سے بچنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ لڑکھڑا کر زمین پر گر گیا جس کی وجہ سے فریکچر ہو گیا۔ وہ اٹھ نہ سکیں جس کے باعث شہد کی مکھیاں 3 گھنٹے تک اسے ڈنک مارتی رہیں۔

یہ خوفناک ڈراؤنا خواب اور وہ المیہ تھا۔ تین گھنٹے بعد کسی شخص نے اموس کو زمین پر پڑے دیکھا۔ اس نے فوری طو پر ایمبولینس کو کال کی اور ہسپتال پہنچایا گیا۔ اس وقت وہ بے ہو چکا تھا۔ ہوش میں آنے پر آموس نے مدد کرنےوالے شخص کا شکریہ ادا کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے مدد کرنے والے کا شکر گذار ہونا چاہیے۔ اس نے میری زندگی بچائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں