شمالی چین میں 3000 سال سے زیادہ پرانے گاؤں کی دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقامی ماہرین آثار قدیمہ کو شمالی چین کے صوبہ ہیبی میں 3000 سال سے زیادہ پرانے گاؤں کے کھنڈرات ملے ہیں۔

چائنی میڈیا کے مطابق یہ گاؤں جو ووان شہر کے موجودہ چاؤیاو گاؤں میں واقع ہے تقریباً 220,000 مربع میٹر کے رقبے پر محیط ہے اور اس کی تعمیر شانگ خاندان (1600-1046 قبل مسیح) کے وسط میں کی گئی تھی۔

درمیانے درجے کے گاؤں میں ماہرین کو سڑکوں کے کھنڈرات، گڑھے، مٹی کے برتنوں کے بھٹے، آبی گذرگاہوں، تہہ خانوں اور گھروں کی قطاریں، سیرامک کے کام کے ٹکڑے، مٹی کے برتن، ہڈیوں اور کچھوؤں کی ڈھالوں سے تراشے گئے بالوں کے ڈھیر ملے ہیں۔

اس کے علاوہ ہر گھر کے اندر ایک ہیٹنگ سسٹم پایا گیا ہے جو روایتی چینی "کانگ" یا ایڈوب سلیپنگ پلیٹ فارم کا پروٹو ٹائپ سمجھا جاتا ہے۔

گاؤں کو اس وقت دریافت کیا گیا جب ماہرین آثار قدیمہ 2020 اور 2022 کے درمیان چاؤیاو کھنڈرات کی کھدائی کر رہے تھے۔

صوبہ ہیبی کے ثقافتی آثار اور آثار قدیمہ کے انسٹی ٹیوٹ میں شانگ اور ژو خاندان کے آثار قدیمہ کے تحقیقی شعبے کے سربراہ وی شوگوانگ کے مطابق یہ گاؤں اس وقت کسی قبیلے یا سلطنت کا مرکز رہا ہو گا۔

وی نے نشاندہی کی کہ گاؤں کے کھنڈرات کا ڈیزائن معقول لگتا ہے جبکہ حرارتی نظام محققین کو شانگ خاندان کے وسط میں ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ شمالی چین میں گرم رکھنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سمجھنے میں مدد کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں