فرانس میں لبنان کے سفیر پر زیادتی اور تشدد کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

باخبر ذرائع نے جمعہ کو میڈیا پارٹ کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فرانس میں لبنان کے سفیر رامی عدوان سے سفارت خانے کی دو سابق خاتون ملازمین کی شکایات کے بعد ریپ اور جان بوجھ کر تشدد کی تحقیقات کی گئی ہیں۔

پہلی خاتون، جس کی عمر 31 سال تھی، نے جون 2022 میں ریپ کی شکایت درج کرائی اور کہا کہ مئی 2020 میں سفیر کے نجی اپارٹمنٹ میں اس سے زیادتی کی گئی۔ اس نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے جنسی تعلقات میں اپنی دلچسپی کی کمی کو واضح کیا اور وہ چیخ اٹھی تھی۔

یہ خاتون ایڈیٹر ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہی تھی اور 2020 میں پہلے ہی پولیس کو رپورٹ کر چکی تھی کہ 2017 سے اپنے عہدے پر رہنے والے رامی عدوان نے اپنے دفتر میں بحث کے دوران اسے مارا تھا۔

تاہم اس نے شکایت اس بنا پر درج نہیں کرائی تھی کیونکہ وہ ایک شادی شدہ اور بچوں کے باپ شخص کی زندگی خراب کرنا نہیں چاہتی تھی۔ شکایت کے مطابق اس کا سفیر کے ساتھ "محبت کا رشتہ" تھا اور سفیر نے اسے روزانہ ذلت کے ساتھ نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔

شکایت کرنے والی دوسری خاتون کی عمر 28 سال تھی۔ اس نے 2018 میں بطور انٹرن آنے کے فوراً بعد سفیر کے ساتھ تعلقات استوار کیے تھے۔ اس نے گزشتہ فروری میں جسمانی حملوں کے مبینہ سلسلے کے بعد شکایت درج کرائی تھی۔

دوسری خاتون کا دعویٰ ہے کہ پچھلے سال نارمنڈی ورلڈ پیس فورم کے موقع پر جھگڑے کے بعد رامی عدوان نے اسے اپنی کار سے ٹکر مارنے کی کوشش بھی کی تھی۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ سفیر نے گزشتہ دسمبر میں اپنے گھر میں اس کا چہرہ اپنے بستر پر دبا کر گلا دبانے کی کوشش کی۔

رامی کے وکیل کریم بیلونی نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ "میرا مؤکل زبانی، اخلاقی اور جنسی کسی بھی شکل میں جارحیت کے تمام الزامات کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔

بیلونی نے کہا 2018 اور 2022 کے درمیان ان کے موکل کے ان دو خواتین کے ساتھ رومانوی تعلقات تھے جو بریک اپ کا شکار بھی ہوئے۔ ایک باخبر ذریعہ نے بتایا کہ پیرس کی عدالتی پولیس نے کیس بند کر دیا ہے۔ واضح رہے رامی عدوان کو سفارتی استثنیٰ بھی حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں