ایران جوہری معاہدہ

اسرائیل کا اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے پر ایران کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا الزام

آئی اے ای اے سیاسی تنظیم بن جاتی ہے تو ایران میں اس کی نگرانی کی سرگرمی کی کوئی اہمیت نہیں: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ویانا میں قائم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) پر ایران کی جوہری سرگرمیوں پر غیر مؤثر نظر رکھنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا کہ اقوام متحدہ کا نگران ادارہ سیاسی اور غیر متعلقہ ہونے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔

انھوں نے یہ غیر معمولی تنقید گذشتہ ہفتے آئی اے ای اے کی اس رپورٹ کے بعد کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے یورینیم کے مشتبہ ذرّات کے ایک معاملے پر تسلی بخش جواب دے دیا ہے اور 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت اپنی جوہری تنصیبات میں نگرانی کے کچھ آلات دوبارہ نصب کردیے ہیں۔

نیتن یاہو نے اتوار کو اپنی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران آئی اے ای اے سے مسلسل جھوٹ بول رہا ہے اورایجنسی کا ایرانی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنا اس کے ریکارڈ پر ایک سیاہ دھبّہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر آئی اے ای اے ایک سیاسی تنظیم بن جاتی ہے تو پھر ایران میں اس کی نگرانی کی سرگرمی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اسی طرح اس کی ایران کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹوں کے بارے میں کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

آئی اے ای اے نے فوری طور پر نیتن یاہو کے اس بیان پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔اس نے گذشتہ بدھ کو ایک رپورٹ میں بتایا تھاکہ برسوں کی تحقیقات اور پیش رفت نہ ہونے کے بعد ایران نے ان تین مقامات میں سے ایک کی وضاحت میں تسلی بخش جواب دیا ہے جہاں یورینیم کے ذرّات پائے گئے تھے۔

ویانا میں ایک سینیر سفارت کار نے کہا کہ ان ذرّات کی وضاحت وہاں سابق سوویت یونین کے زیرانتظام بارودی سرنگ اور لیبارٹری کی موجودگی سے کی جا سکتی ہے اور آئی اے ای اے کے پاس مزید کوئی سوال نہیں ہے۔

نیتن یاہو نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "ایران کے بہانے ... ممنوعہ مقامات پر جوہری مواد کی تلاش کے حوالے سے نہ صرف ناقابل اعتماد ہیں بلکہ تکنیکی طور پر بھی ناممکن ہیں‘‘۔

تاہم ویانا کے سفارت کار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو یہ بھی بتایا کہ آئی اے ای اے کا اندازہ یہی ہے کہ ایران نے دہائیوں قبل وہاں دھماکاخیز مواد کا تجربہ کیا تھا جو جوہری ہتھیاروں سے متعلق تھا۔

واضح رہے کہ 2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پرالگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کے بعد تہران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کر دیا تھا۔ اسرائیلی اور مغربی حکام کا کہنا ہے کہ ایران چند ہفتوں کے اندر 60 فی صد افزودہ یورینیم کو90 فی صد کی سطح تک افزودہ کرسکتا ہے۔

یادرہے کہ سنہ 2012 میں نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں ایران کی جانب سے 90 فی صد یورینیم افزودگی کو 'ریڈ لائن' قرار دیا تھا۔ تاہم ماہرین اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا اسرائیل مبیّنہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے لیس جدید فوج کے ساتھ ایران کی زیرزمین ،دور دراز، منتشر اور محفوظ جوہری تنصیبات کو دیرپا نقصان پہنچا سکتا ہے یا نہیں۔

اسرائیلی وزیرتوانائی اور نیتن یاہو کی قومی سلامتی کی کابینہ کے رکن اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اگر ہم ایسے فیصلہ کن مقام پر پہنچ جاتے ہیں، جہاں دو آپشن ہمارے سامنے ہوتے ہیں،ایک،ایرانیوں کی جانب سے بم بنانا یا دوسرا، ہماری کارروائی ،تو ہم کارروائی کریں گے۔کاٹز نے گیلی اسرائیل ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت تمام تیاریاں کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں