بھارت میں مہلک ٹرین حادثے کی وجوہ اور ذمہ داروں کی نشان دہی کر لی گئی: وزیر ریلوے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بھارت کے وزیر ریلوے نے کہا ہے کہ جمعہ کو مشرقی ریاست اڑیسہ (اڈیشا) ہونے والے تین ٹرینوں کے بدترین حادثے کی وجوہ اور ذمے داروں کی نشان دہی کر لی گئی ہے۔

وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ’’ہم نے حادثے کے سبب اور اس کے ذمے دار افراد کی نشان دہی کر لی ہے لیکن اس کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ سے قبل تفصیل کا اجراء مناسب نہیں ہوگا‘‘۔

اشونی نے کہ’’الیکٹرانک انٹرلاکنگ کے دوران میں تبدیلی کی وجہ سے حادثہ پیش آیا تھا‘‘۔ یہ پیچیدہ سگنل نظام ٹرینوں کو پٹڑیوں پر ان کی نقل و حرکت کا انتظام کرکے ٹکرانے سے روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا:’’جس نے بھی یہ کیا، اور یہ کیسے ہوا، مناسب تحقیقات کے بعد پتا چلے گا‘‘۔انھوں نے بتایا کہ بدھ کی صبح تک بحالی کا پورا کام مکمل ہوجائے گا اور پٹڑیوں پر ٹرینوں کو بحال کردیا جائے گا۔

بھارت کی تاریخ کے اس مہلک حادثے سے متعلق واقعات کی صحیح ترتیب کے بارے میں الجھاؤ پایا جارہا تھا لیکن اطلاعات میں ریلوے عہدے داروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اشارے کی غلطی کی وجہ سے ضلع بالاسورو میں کورو منڈل ایکسپریس کو کولکتہ سے چنئی جانے والے جنوب کی طرف ایک سائیڈ ٹریک پر بھیج دیا گیا تھا۔

یہ مسافر ٹرین وہاں کھڑی ایک مال بردار ٹرین سے ٹکرا گئی اور اس کے ملبے کی وجہ سے بھارت کے تکنیکی مرکز بنگلورو سے کولکتہ جانے والی ایک اور ایکسپریس ٹرین پٹڑی سے اترگئی جو اس وقت اس مقام سے گزر رہی تھی۔

اس بدترین ریل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 288 سے کم کرکے 275 کردی گئی ہے۔ ریاست اڑیسہ کے چیف سکریٹری پردیپ جینا نے بتایا کہ کچھ لاشوں کی دو بار گنتی کی گئی تھی،اس لیے مہلوکین کی تعداد پرنظرثانی کی گئی ہے اور اب مہلوکین کی تعداد میں میں اضافے کا امکان نہیں کیونکہ امدادی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں۔انھوں نے تصدیق کی کہ قریباً 900 زخمیوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

اڑیسہ کی ریاستی حکومت نے اتوار کی شام کو ایک اپ ڈیٹ میں بتایا کہ حادثے میں کل 12 سوافراد زخمی ہوئے تھے۔ان میں سے 900 سے زیادہ مسافروں کو اسپتال سے ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ 260 اب بھی زیر علاج ہیں۔ان میں سے ایک زخمی کی حالت نازک ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز جائے حادثہ کا دورہ کیا اور امدادی کارکنوں سے بات چیت کی۔ تباہ شدہ ٹرینوں کا معائنہ کیا اور کچھ زخمیوں سے ملاقات کی۔اس موقع پر مودی نے کہا کہ جو لوگ اس حادثے میں قصوروار پائے جائیں گے،انھیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

ابتدائی تحقیقات

ابتدائی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ کولکتہ سے چنئی جانے والی کورومنڈل ایکسپریس غلط سگنل کی وجہ سے مرکزی پٹڑی سے باہر چلی گئی تھی۔

وہ ٹرینوں کو پارک کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایک سائیڈ ٹریک سے128 کلومیٹر فی گھنٹا (80 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے ایک لوپ ٹریک میں داخل ہوئی تھی اور وہاں مال بردار ٹرین سے ٹکرا گئی تھی۔

ریلوے بورڈ کی رکن جیا ورما سنہا نے کہا کہ لوپ ٹریک پر مال گاڑی کو کھڑا کیا گیا تھا۔انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس حادثے کے نتیجے میں کورومنڈل ایکسپریس کا انجن اور پہلی چار یا پانچ بوگیاں پٹڑی سے اترنے کے بعد پھسل گئیں اور دوسرے مین ٹریک پر مخالف سمت سے 126 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے جانے والی یشونت پور-ہاوڑہ ٹرین کی آخری دو بوگیوں سے ٹکرا گئیں۔

انھوں نے بتایا کہ دونوں مسافر ٹرینوں کے ڈرائیور زخمی ہوئے لیکن وہ بچ گئے۔تحقیقات اب کمپیوٹر کے کنٹرول والے ٹریک مینجمنٹ سسٹم پر مرکوز ہے ، جسے "انٹرلاکنگ سسٹم" کہا جاتا ہے۔یہ نظام کسی ٹرین کودوپٹڑیوں کے سنگم پر واقع مقام سے ایک خالی ٹریک پر لے جاتا ہے۔

سنہا نے کہا کہ سسٹم میں خرابی کا شُبہ ہے کیونکہ اسے کورومنڈل ایکسپریس کو لوپ ٹریک پر جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔

بھارتی حکومت نے اس مہلک حادثے میں مرنے والے افراد کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے اورشدید زخمیوں کو 2 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کیا ہے۔وزیرریلوے نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ معمولی زخمیوں کو بھی 50 ہزار روپے بہ طور معاوضہ دیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں