چین اور امریکہ کو قریب لانے کے لیے دنیا کے انٹیلی جنس عہدیداروں کی خفیہ میٹنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دونوں ملکوں کے درمیان مہینوں کی کشیدگی کے باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چین اور امریکہ کو قریب لانے کے لیے دنیا کے سینئر انٹیلی جنس عہدیداروں نے ملاقات کی ہے۔

پانچ افراد نے تصدیق کی ہے کہ دنیا کی تقریباً دو درجن بڑی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر حکام نے اس ہفتے کے شروع میں سنگاپور میں ’’شنگری لا‘‘ سکیورٹی ڈائیلاگ ملاقاتوں کے موقع پر ایک خفیہ میٹنگ کی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ یہ ملاقاتیں سنگاپور کی حکومت نے کئی سال پہلے منعقد کرتا آ رہا ہے۔ یہ ملاقاتیں سیکیورٹی سربراہی اجلاس کے علاوہ ایک الگ جگہ پر خفیہ طور پر منعقد کی جاتی تھیں لیکن رائٹرز کے مطابق اس سے پہلے اس کا انکشاف نہیں کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں ذرائع نے نشاندہی کی کہ امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ایورل ہینز نے حالیہ خفیہ ملاقات میں امریکہ کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی اور دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ کی کیفیت کے باوجود اس ملاقات میں چین کا نمائندہ بھی موجود تھا۔

ایک ہندوستانی ذریعہ نے بتایا کہ ہندوستان کی انٹیلی جنس سروس ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ کے ڈائریکٹر سمنت گوئل نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔

بات چیت سے واقف ایک شخص نے نشاندہی کی ہے کہ یہ ملاقات بین الاقوامی شیڈو ایجنڈے کا ایک اہم عنصر ہے۔ متعلقہ ملکوں کے گروپ کے خیال میں یہ انٹیلی جنس میٹنگ نہیں ہے بلکہ نیتوں اور اشیا کی گہری سمجھ کے لیے تفہیم کو بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے۔

چینی وزیر دفاع شنگری لا
چینی وزیر دفاع شنگری لا

انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس سروسز کے درمیان ایک غیر واضح ضابطہ ہے کہ وہ اس وقت بھی بات کر سکتے ہیں جب بات چیت کرنا اور سفارت کاری میں مشغول ہونا مشکل ہو۔

سنگاپور کی وزارت دفاع کے ترجمان نے پہلے کہا تھا کہ شنگری لا سیکیورٹی ڈائیلاگ میں شرکت کے دوران شرکاء جن میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہوتے ہیں اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

سنگاپور میں امریکی سفارت خانے نے ایسی کسی بھی چیز کے علم سے انکار کیا۔ چینی اور ہندوستانی حکومتوں نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں