چین نے ایشیا اور بحرالکاہل میں نیٹو نما اتحاد سے خبردار کردیا

سنگاپور میں سکیورٹی پر کانفرنس کے دوران چینی وزیر دفاع لی شانگ فو کا اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین کے وزیر دفاع لی شانگ فو نے ایشیا پیسفک خطے میں "نیٹو نما" فوجی اتحاد کے قیام سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فوجی اتحاد خطے کو تنازعات کے "بھنور" میں ڈال دیں گے۔

سنگاپور میں اتوار کے روز ’’شنگری لا ڈائیلاگ‘‘ کے فریم ورک کے اندر منعقدہ سکیورٹی کانفرنس کے دوران لی شانگ فو نے خبردار کیا کہ ایشیا پیسیفک خطے میں نیٹو جیسے اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوششیں خطے کے ممالک کو ہائی جیک کرنے اور تصادم اور تنازعات کو بڑھانے کا ایک طریقہ ہیں۔ ایسی کوششیں صرف ایشیا پیسیفک خطے کوتصادم اور تنازعات کے بھنور میں ڈالنے کا باعث بنیں گی۔

ان کا کہنا تھا: ’آج کے ایشیا پیسیفک کو کھلے اور جامع تعاون کی ضرورت ہے۔ اسے چھوٹے چھوٹے گروپوں میں نہیں بٹنا چاہیے۔ ہمیں دو عالمی جنگوں کی وجہ سے تمام ممالک کے لوگوں کو درپیش آنے والی مشکلات کو نہیں بھولنا چاہیے اور ہمیں یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ایسی المناک تاریخ اپنے آپ کو دہرائے۔‘

وزیر دفاع لی نے واضح طور پر کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم اے ایف پی کے مطابق وہ یہاں بظاہر امریکہ کا حوالہ دے رہے تھے جو خطے میں اتحادوں اور شراکت داریوں کو فروغ دے رہا ہے۔

شنگری لا ڈائیلاگ کے موقع پر چینی وزیر دفاع لی شانگ فوـ رائیٹرز
شنگری لا ڈائیلاگ کے موقع پر چینی وزیر دفاع لی شانگ فوـ رائیٹرز

امریکہ اے یو کے یو ایس (اوکس) اتحاد کا رکن ہے۔ اوکس آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی سکیورٹی معاہدہ ہے جس کا اعلان 15 ستمبر 2021 کو ہند بحر الکاہل کے علاقے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ اور برطانیہ جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کے حصول میں آسٹریلیا کی مدد کریں گے۔

اسی طرح واشنگٹن کواڈ گروپ کا بھی رکن ہے جس میں آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان شامل ہیں۔ یہ چار ممالک پر مشتمل باضابطہ سکیورٹی اتحاد ہے جس میں امریکہ، آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان شامل ہیں۔ ان ملکوں کے درمیان سمندری تعاون 2004 کے بحر ہند کے سونامی کے بعد شروع ہوا تھا، لیکن اب یہ گروپ وسیع تر ایجنڈے پر کام کر رہا ہے، جس میں سلامتی، اقتصادی اور صحت کے مسائل سے نمٹنا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں