یوٹیوب دستبردار، امریکی الیکشن پر سوال اٹھانے والا مواد نشر کرنے کی بھی اجازت دیدی

متنازع یا غیر ثابت مفروضوں پر مبنی سیاسی نظریات پر بھی کھل کر بحث کرنا ایک فعال جمہوری معاشرے کی روح ہے: یوٹیوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوٹیوب نے جمعہ کو کہا ہے کہ وہ اپنی پالیسی میں تبدیلی کرے گا تاکہ ایسے مواد کی اجازت دی جائے جو 2020 کے صدارتی اور دیگر انتخابات کی درستی سے انکار کرتا ہو۔ یوٹیوب چینل نے کہا کہ اب انتخابی دھاندلی کے کسی بھی الزامات کو شائع کیا جائے گا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ نے مزید لکھا ہے کہ متنازع اور غیر ثابت شدہ مفروضوں پر مبنی سیاسی نظریات پر کھل کر بحث کرنے کی صلاحیت ایک فعال جمہوری معاشرے کی روح ہے۔ خاص طور پر انتخابات کے موسم کے دوران ایسی بحث سامنے آتی ہے۔

واضح رہے یوٹیوب نے دسمبر 2020 میں اس طرح کے مواد کو ہٹانا شروع کر دیا تھا جس میں سابق صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے الیکشن دوڑ میں دھوکہ دہی کے غلبے کے الزامات لگانا شروع کردیے تھے۔ اس کے بعد ٹرمپ کے حامیوں نے 6 جنوری 2021 کو کیپٹن ہل میں عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔

یو ٹیوب ویب سائٹ نے مزید کہا کہ آج کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں اس پالیسی کے اثرات کا دوبارہ جائزہ لینے کا وقت آ گیا ہے۔

گوگل کے ذیلی ادارے نے کہا کہ موجودہ وقت میں ہم نے محسوس کیا ہے کہ جب اس طرح کے مواد کو حذف کیا جاتا ہے تو اس سے کسی حد تک گمراہ کن معلومات کو کم کرنے میں مدد تو ملتی تاہم اس سے تشدد یا کسی اور خطرے کو کم کیے بغیر سیاسی تقریر کو کم کرنے کا غیر ارادی اثر بھی پیدا ہوتا ہے۔ مواد کو ہٹانے کا حقیقی دنیا میں نقصان ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں