امریکا اور بھارت کا دفاعی صنعت میں طویل المیعاد تعاون کے روڈ میپ پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت اور امریکا نے اگلے چند سال کے لیے دفاعی صنعت میں تعاون کا ایک طویل المیعاد روڈ میپ تیار کیا ہے ، جس سے نئی دہلی کے دفاعی سازوسامان تیارکرنے کی صنعت کو فروغ دینے کے عزائم کو تقویت ملے گی۔

بھارتی وزارت دفاع کے ایک بیان کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے درمیان ملاقات میں اس روڈ میپ کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

دفاعی تعاون کے فروغ کا یہ سمجھوتا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے 22 جون کو سرکاری دورے پر واشنگٹن روانہ ہونے اور صدر جو بائیڈن سے بات چیت سے چند ہفتے قبل طے پایاہے۔

وزارتِ دفاع کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ راج ناتھ سنگھ اور آسٹن کے درمیان بات چیت میں دفاعی صنعت میں تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں کی نشان دہی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

بیان کے مطابق فریقین نئی ٹیکنالوجیز کی مشترکہ ترقی اور موجودہ اور نئے دفاعی نظاموں کی مشترکہ پیداوار کے مواقع کی نشان دہی کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کے تحت نئے منصوبے ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں سہولت مہیا کریں گے۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے انھوں نے امریکا اور بھارت کے درمیان دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے جو اگلے چند سال کے دوران میں پالیسی کی سمت کی رہنمائی کرے گا۔

دنیا میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بھارت اپنی نصف فوجی سپلائی کے لیے روس پر انحصار کرتا ہے لیکن وہ امریکا، فرانس اور اسرائیل سمیت دیگر ممالک سے بھی اسلحہ خریدکررہا ہے اور اس طرح اس نے ہتھیاروں کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا ہے۔

بھارت یہ بھی چاہتا ہے کہ دفاعی سازوسامان تیار کرنے والے عالمی ادارے اورفرمیں اس کی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کریں اور مقامی کھپت کے علاوہ برآمدات کے لیے بھارت ہی میں ہتھیار اور فوجی سازوسامان تیار کریں۔

واضح رہے کہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے اور بھارت کے ساتھ دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں گہرے تعلقات کوخطے میں چین کے غلبے کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم سمجھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں