امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا: بلینکن

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ واشنگٹن کے لیے انتہائی اہم ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ واشنگٹن کے لیے انتہائی اہم ہے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہارپیر کے روز اسرائیل نواز لابی گروپ سے گفتگو میں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پرلانا امریکا کے قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔

بلینکن نے امریکی اسرائیل تعلقات عامہ کمیٹی ( اے آئی پی اے سی) بتایا کہ ہمیں یقین ہے،دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کوآگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انٹونی بلینکن نے الریاض اور جدہ میں مذاکرات کے لیے روانگی سے چند گھنٹے قبل خطاب میں کہا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ معاہدۂ ابراہیم کے لیے پرعزم ہے، یہ اقدام سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں عرب ممالک کو یہودی ریاست کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

لیکن اب تک الریاض نے اس میں کوئی زیادہ دل چسپی کا مظاہرہ نہیں کیا حالانکہ اس نے اسرائیل کی تجارتی پروازوں کو اپنی فضائی حدود سے گذرنے کی اجازت دی ہے اوراس کے اسرائیل کے ساتھ رابطے بھی ہوئے ہیں۔

بلینکن نے سامعین کو بتایا:’’خطے میں اسرائیل کا مزید انضمام زیادہ مستحکم، زیادہ محفوظ اور زیادہ خوش حال خطے اور زیادہ محفوظ اسرائیل میں مدد دیتا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کو اس بات کی کوئی غلط فہمی نہیں ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو مکمل طور پر معمول پرلایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا:’’لیکن ہم اس کام کے لیے پرعزم ہیں، جس میں سعودی اور خلیجی ممالک کے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے اس ہفتے جدہ اور الریاض کا میرا دورہ بھی شامل ہے‘‘۔

تاہم انھوں نے مزید کہا کہ انضمام اور معمول کے تعلقات استوار کرنے کی کوششیں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پیش رفت کا متبادل نہیں ہیں اور انھیں اس کی قیمت پر نہیں آنا چاہیے۔

بلینکن نے واشنگٹن کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی کے حوالے سے امریکی عزم پر کوئی سمجھوتانہیں کیا جا سکتا۔یہ آئرن کلاڈ ہے‘‘۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ اگر ایران سفارت کاری کا راستہ ترک کرتا ہے تو جیسا کہ صدر بائیڈن کئی بار واضح کر چکے ہیں،اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں