امریکی خاتون اول کی مراکش آمد، تاریخی اہمیت کے حامل ‘بن یوسف’ اسکول کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی خاتون اول جل بائیڈن نے عرب ممالک کے ایک ہفتے کے دورے کے دوران کل اتوار کو مراکش کا دورہ کیا جہاں انہوں نے قدیم شہر کےمرکز میں واقع اس تاریخی تعمیراتی شاہکار کو دیکھنے کے لیے بن یوسف اسکول کا دورہ کیا۔

رباط آمد پر مسز بائیڈن کا استقبال وزیر برائے نوجوانان، ثقافت اور مواصلات محمد المہدی بن سعید، مراکش کی میئر فاطمہ زہرا المنصوری نے کیا۔

اس تاریخی اور تعلیمی ادارے کے دورے کے دوران جِل بائیڈن کو اس تاریخی اور تعمیراتی مقام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

بن یوسف اسکول مراکش اور اندلس کی کاریگری کی ایک شاندار مثال ہے۔ یہ کسی دور میں ایک مذہبی مدرسہ تھا جس میں شمالی افریقہ اور اس سے باہر کے مختلف حصوں سے طلبہ زیور علم سے آراستہ ہونے کے لیے آتے تھے۔ اس کی بنیاد سلطان عبداللہ الغالب نے 1565 میں رکھی تھی۔ اس مدرسے کا نام سلطان المرینی ابو الحسن علی بن عثمان المعروف بن یوسف اس کا نام رکھا گیا تھا۔ انہوں نے چودھویں صدی کے اوائل میں مراکش میں حکومت کی تھی۔

واضح رہے کہ اس تاریخی ثقافتی اور تہذیبی مقام کو محفوظ رکھنے کے لیے شاہ محمد ششم نے 2017 میں اس اسکول کی بحالی کا کام شروع کیا جس کی تکمیل کے بعد اس عمارت کو دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں