حماس اوراسلامی جہاد کے وفود کی جنگ بندی پر بات چیت کے لیےقاہرہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل اتوار کو فلسطینی تنظیموں حماس اور اسلامی جہاد کے دو وفود مقبوضہ علاقوں میں سیاسی مسائل اور جنگ بندی، مفاہمت اور پیش رفت سے متعلق فائلوں پر بات چیت کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے ہیں۔

فلسطینی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دونوں جماعتوں کے وفود کا یہ دورہ مصری قیادت کی جانب سے دی گئی سرکاری دعوت اور متعدد امور پر بات چیت کے لیے کیا گیا ہے۔

حماس کے وفد میں سیاسی بیورو کے ارکان اور تحریک کے قائدین جن میں سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری اور فلسطین سے باہر "حماس" کے سربراہ خالد مشعل کے علاوہ سیاسی بیورو کے دو ارکان خلیل الحیہ اور روحی مشتہی شامل ہیں۔

اسلامی جہاد کے وفد میں نافذ عزام، محمد الہندی، جمیل العیان، محمد حسن حامد، احمد خلیل المدلل، یوسف الحساینہ، محمد عبداللہ شلح، ولید المقططی اور خالد البطش شامل ہیں۔

اسلامی جہاد موومنٹ کے ترجمان طارق السلمی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان کی جماعت مصری حکام کے ساتھ خاص طور پر غزہ کی پٹی کی صورت حال سے متعلق امور اور عمومی طور پر فلسطین کی صورت حال پر تبادلہ خیال کرے گی۔

گذشتہ مئی میں اسرائیلی فوج نے فلسطین کے علاقےغزہ کی پٹی میں اسلامی جہاد کے عسکری کمانڈروں کے خلاف ایک آپریشن شروع کیا تھا۔ اس دوران پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مصر نے مداخلت کی تھی اور عارضی جنگ بندی کے معاہدے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اسلامی جہاد کے سربراہ داؤد شہاب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو پچھلے بیانات میں کہا تھا کہ مصر نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلامی جہاد کے رہ نماؤں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے سے روکنے کی کوشش کرے گا اور اس حوالے سے قاہرہ نے اسرائیل سے اس کا وعدہ بھی لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں