سرحدی جھڑپ میں مصری سکیورٹی اہلکار اکیلا ہی ملوث تھا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر اور اسرائیل کی سرحد پر ہفتہ کو پیش آنے والے اس نادر واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا شروع ہوگئیں۔ اسرائیل کی جانب سے مصر اور اسرائیل کی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کے اعلان کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اس ہفتے سے قبل تحقیقات مکمل کرکے پہلی رپورٹ جاری کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کمیٹی میں دونوں ملکوں کے دفاعی اور انٹیلی جنس حکام شامل ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فریق نے مصری فوجی کے ساتھ دوسروں کے تعاون کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ مصری فریق نے تصدیق کی ہے کہ فوجی کو کسی بھی گروپ کی طرف سے کوئی لاجسٹک سپورٹ حاصل نہیں تھی۔ ذرائع کے مطابق کارروائی میں ملوث مصری کا قطعی طور پر کوئی سیاسی یا تنظیمی جھکاؤ نہیں ہے اور نہ ہی کسی انتہا پسند گروپ سے کوئی تعلق ہے۔ ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب فوجی کی میت مصر کے حوالے کر رہا ہے۔

ذرائع نے وضاحت کی کہ مختلف مقامات پر نگرانی کے ٹاورز کو تعداد بڑھانے اور نئے کیمرے نصب کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اتوار کو اسرائیل اور مصر کے حکام کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک کے سیکورٹی حکام شامل تھے۔ انہوں نے سرحدوں پر کنٹرول کے اقدامات کو سخت کرنے اور محافظوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ دونوں طرف سے ہنگامی راہداری کو عارضی طور پر بند کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

اتوار کو اسرائیل نے اپنے تینوں فوجیوں کی آخری رسومات ادا کردیں۔ ان تینوں کو ہفتہ کے روز مصری فوجی نے ہلاک کردیا تھا۔ مصری فوجی سمگلروں کا تعاقب کرتے ہوئے اسرائیلی سرحد میں داخل ہوگیا تھا۔ فائرنگ کے تبادلہ میں مصری فوجی بھی جاں بحق ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں