امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن سعودی عرب پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن الریاض کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات کو مستحکم کرنے کے مشن پر منگل کو سعودی عرب پہنچے ہیں۔

توقع ہے کہ انٹونی بلینکن دارالحکومت الریاض اور ساحلی شہر جدہ میں اپنے قیام کے دوران میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت اعلیٰ سعودی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔حالیہ ہفتوں میں امریکا کے کسی اعلیٰ عہدہ دار کا واشنگٹن کا دوسرا ہے۔ اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے 7 مئی کو سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔

امریکی وزیرخارجہ کے اس دورے کے مقاصد میں تیل کی قیمتوں پر سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کرنا، خطے میں چینی اور روسی اثر و رسوخ کا توڑ کرنا اور سعودی اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کی امیدوں کو فروغ دینا شامل ہے۔

انٹونی بلینکن نے پیر کے روز اسرائیل نواز لابی گروپ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کی وکالت کرنے میں واشنگٹن کا "حقیقی قومی سلامتی کا مفاد" وابستہ ہے، لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ ایسا جلد نہیں ہوگا۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک فاؤنڈیشن برائے دفاع جمہوریت (ایف ڈی ڈی) کے سینیر مشیر رچرڈ گولڈ برگ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور چین کے قریبی تعلقات کی حوصلہ شکنی شاید بلینکن کے دورے کا سب سے اہم عنصر ہے۔

گولڈ برگ نے کہا کہ بلینکن کو وضاحت کرنی چاہیے کہ چین کے مفادات سعودی عرب کے ساتھ کیوں وابستہ نہیں ہیں اور تزویراتی طریقے سے یہ تعلقات واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعلقات میں رکاوٹ کیوں بنتے ہیں۔

واضح رہے کہ جولائی 2022 میں صدر جو بائیڈن کے سعودی عرب کے دورے سے کشیدگی میں کمی نہیں آئی اور تیزی سے الریاض نے اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ خطے میں اس کی امریکی ترجیحات میں دلچسپی میں کمی واقع ہورہی ہے۔

اس کی حالیہ مثال مئی میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں شام کے صدر بشار الاسد کا سعودی عرب میں خیرمقدم ہے۔اس میں عرب ریاستوں نے ایک دہائی کی معطلی کے بعد شام کو دوبارہ قبول کیا تھا، جس کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا تھا کہ اس نے نہ تو اس اقدام کی حمایت کی اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں