اڑیسہ ٹرین حادثہ: 100 سے زیادہ لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کی ریاست اڑیسہ میں تین ٹرینوں کے حادثے میں ہلاک ہونے والے 275 مسافروں میں سے 101 کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

جمعے کی شب ریاست اڑیسہ کے شہر بالاسور میں دو مسافر ٹرینوں اور ایک مال گاڑی کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں۔ حکام کے مطابق حادثے میں 275 افراد ہلاک اور 1100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایسٹرن سینٹرل ریلوے کے ڈویژنل مینیجر رنکیش رائے کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 900 افراد کو مختلف اسپتالوں میں علاج معالجے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے جب کہ لگ بھگ 200 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ رنکیش رائے نے بتایا کہ 101 لاشیں ایسی ہیں جن کی شناخت ہونی باقی ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق بالاسور شہر کے ایک اسپتال کے باہر دو بڑی اسکرینوں پر حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کی تصاویر چلائی جا رہی ہیں جن میں ایسی لاشیں بھی ہیں جو ناقابلِ شناخت ہیں۔

عہدیداروں نے ہر لاش کے لیے ایک نمبر جاری کیا ہے۔ اسپتال کے باہر موجود لواحقین اسکرین پر لاش کا نمبر اور کپڑے دیکھ کر اپنے پیاروں کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارت میں جمعے کو پیش آنے والے ٹرین حادثے کو دو دہائیوں کے دوران سب سے ہلاکت خیز حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ہلاک ہونے والے کئی لواحقین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین روز سے وہ اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں جس کے لیے انہوں نے مختلف ٹرینوں، بسوں اور کرائے کی گاڑیوں میں سفر کیا ہے اور تین دن گزرنے کے بعد بھی انہیں اپنے پیاروں کی لاشیں نہیں مل سکیں۔

اڑیسہ کے ایک اسپتال میں لاشوں کی شناخت کرنے اور پھر انہیں لواحقین کے حوالے کرنے کے منتظم مایور سوریاونشی نے بتایا کہ اب تک صرف 45 لاشوں کی شناخت ہوسکی ہے جب کہ 33 لاشوں کو عزیزوں کے حوالے کیا گیا ہے۔

رائیٹرز فوٹو

بھوبنیشور اسپتال کے ڈاکٹر اٹکل کشوری سونا نے کہا کہ انہیں اپنے کریئر میں پہلی مرتبہ ایسی مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔ کئی لاشیں سڑنا شروع ہو گئی ہیں اور ان کی شناخت مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

اوپندرا رام اپنے 17 سالہ بیٹے کی تلاش کے لیے ریاست بہار سے 520 میل کا سفر طے کرنے کے بعد اڑیسہ پہنچے ہیں جہاں وہ اسپتال کے باہر کئی گھنٹوں تک اسکرین پر چلنے والی تصاویر کو تکتے رہے۔ بالاخر کئی گھنٹوں کے بعد اوپندرا نے پیر کی شام اپنے بیٹے ریتل رام کی لاش کو شناخت کر لیا۔

اوپندرا نے بتایا کہ غربت کی وجہ سے ان کے بیٹے نے اسکول چھوڑ دیا تھا اور خاندان کو سپورٹ کرنے کے لیے کام کرنا شروع کیا تھا، اوپندرا کے مطابق وہ اپنے بیٹے کی لاش ملنے کے بعد اسے گھر لے جائیں گے جہاں ریتل کی والدہ بیٹے کی صورت دیکھنے کے لیے تڑپ رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں