صدر ایردوآن نے اپنی نئی حکومت میں کردوں کو وزارت کے قلم دان کیوں سونپے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تُرکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن جنہوں نے 14 اور 28 مئی کو ملک میں ہونے والے گذشتہ دو مراحل کے صدارتی انتخابات میں تیسری مرتبہ صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی ملک میں کردوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی حکومت کے قیام سے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ ان کی پچھلی حکومت کےدو وزراء اپنے عہدوں پر بدستور فائز رہیں گے۔ اس کے علاوہ کابینہ میں 15 نئے وزراء شامل کیے گئے ہیں جن میں کئی کُرد وزراء شامل ہیں۔ کرد وزراء میں محمد شمشک کو خزانہ اورمالیات کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

ایردوآن نے اس کے علاوہ ایک کرد رکن پارلیمنٹ جودت یلماز کو بھی وزیر مقرر کیا ہے۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کرد جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہے یا اگلے مرحلے میں ترکیہ کے کردوں کو مطمئن کرنا چاہتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں ایک سیاسی تجزیہ کار اور ترکیہ کے امور میں ماہر محقق خورشید ڈلی نے تصدیق کی کہ "تُرک صدر کی جانب سے اپنی نئی حکومت میں کئی سرکردہ کرد شخصیات کی بطور وزیر تقرری کردوں کے لیے پرامن حل تلاش کرنے کی ان کی خواہش کی عکاسی نہیں کرتی۔

تُرک صدر کوکئی اور بحران حل کرنا ہیں جن کے لیے وہ کردوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔ ان میں اقتصادی بحران سب سے اہم ہے۔ انہوں نے اقتصادی منصوبوں کے لیے مشہور شمشک کو وزیر خزانہ مقرر کرکے مالیاتی بحران کے حل کی کوشش کی ہے۔

یہ وزارتیں کردوں کی امنگوں کی ترجمان نہیں

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ "ان شخصیات کا بطور وزیر انتخاب ایک اہم پیش رفت ہے مگر ان سے کردوں کی امنگوں اور مطالبات کی ترجمانی نہیں ہوتی۔

جیسا کہ ہاکان فیدان کے معاملے میں ہوا۔ وہ نئے وزیر خارجہ ہیں جنہیں موجودہ ترک صدر کا خفیہ فنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ تاریخی تجربے نے بتایا ہے کہ ترک ریاست میں کردوں کی الگ شناخت تحلیل ہوئی ہے۔ ترک ریاست کے ڈھانچے میں کردوں کو ریاست کی خدمت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ترکوں اور کردوں کے درمیان مساوات کو فروغ دینے کی کی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن حقیقت میں وہ کردوں کے مسئلے سے بہت دور ہیں۔

ترک اخبار "دی انڈیپنڈنٹ" کے چیف ایڈیٹر محمد زاہد گل نے ڈلی سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سازی میں کرد وزراء کی موجودگی انقرہ اور "پی کے کے" سمیت متعدد کرد جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا باعث بنے گی لیکن انہوں نے کہا کہ ایردوآن کا اپنی حکومت میں ان شخصیات کو تعینات کرنے کا ایک اور مقصد ہوسکتا ہے۔

گل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا "ترک صدر کی جانب سے کرد شخصیات کی تقرری ترکیہ کےاندرونی حالات اورعوام کے لیے ایک پیغام کے مترادف ہے، خاص طور پر چونکہ ملک میں تقریباً 9 ماہ بعد بلدیاتی انتخابات ہوں گے۔ ایردوآن نے گزشتہ دنوں کرد ہدیٰ بار پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا۔ اس انتخابی اتحاد کا مقصد یہ ہے کہ وہ کرد ووٹروں کے ووٹوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ اگلے انتخابات میں کرد ووٹروں کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔

نئی حکومت کے 3 طاقتور ترین وزیر

انہوں نے مزید کہا کہ "موجودہ حکومت کی تشکیل نئی اور بعض اعتبار سے منفرد ہے اور یہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کے راستے کی طرف بڑھے گی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کرد جماعتوں کے ساتھ مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ واشنگٹن کے ذریعے ہوں گے۔

ایردوآن جو حالیہ صدارتی انتخابات میں اپنے حریف کمال کلیچداراوگلو کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے نے 3 جون کو بطور صدر اپنی حلف برداری کی تقریب کے بعد اپنی نئی حکومت کے قیام کا اعلان کیا۔

اس بات کا امکان ہے کہ ان کی حکومت کو بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر وہ اقتصادی بحران جس سے ملک برسوں سے دوچار ہے۔اس کی وجہ سے غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں ترک لیرا کی شرح مبادلہ میں کمی واقع ہوئی۔ اس کے علاوہ اس کے اثرات بھی سامنے آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں